دعوت الامیر — Page 296
(ray) دعوة الامير موعودؓ نے اس کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا اور فَانتَظِرُ إِنَّهُمْ مُنْتَظِرُونَ ہ کے حکم کے مطابق خدائی فیصلے کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔آخر اللہ تعالیٰ نے جو پکڑنے میں دھیما ہے مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا اور وہ پاؤں جن کو وہ اس کے مسیح پر رکھ کر کچلنا چاہتا تھا اس نے معطل کر دیئے اس کے مسیح پر پاؤں رکھنے کی طاقت تو اسے کہاں مل سکتی تھی وہ اُن پاؤں کو زمین پر رکھنے کے قابل بھی نہ رہا یعنی خدا کا غضب فالج کی شکل میں اس پر نازل ہوا۔کچھ دن کے بعد افاقہ ہو گیا مگر دو ماہ بعد ۱۹ ؍ دسمبر کو دوسرا حملہ ہوا اور اس نے رہی سہی طاقتیں بھی توڑ دیں۔جب وہ بالکل لاچار ہو گیا تو اس نے اپنا کام اپنے نائبوں کے سپرد کیا اور خود ایک جزیرہ میں جس کی آب و ہوا فالج کے لیے اچھی تھی بود و باش اختیار کر لی۔مگر اللہ تعالیٰ کے غضب نے اس کو اب بھی نہ چھوڑا اور چاہا کہ جس طرح اُس نے اس کے مسیح کو کیڑا کہا تھا اس کو کیڑے کی طرح ثابت کر کے دکھائے اور وہ چیزیں جن پر گھمنڈ کر کے اس نے یہ جرأت کی تھی انہیں کے ذریعے اسے ذلیل کرے۔چنانچہ ایسا ہوا کہ اُس کے بیمار ہو کر چلے جانے پر اس کے مریدوں کے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ تو اوروں کو دعا سے نہیں بلکہ اپنے حکم سے اچھا کرتا تھا، یہ خود ایسا کیوں بیمار ہوا اور انہوں نے اُسکے بعد اُس کے کمروں کی جن میں وہ اور کسی کو جانے نہیں دیتا تھا تلاشی لی تو اس میں سے شراب کی بہت سی بوتلیں نکلیں اور اس کی بیوی اور لڑکے نے گواہی دی کہ وہ چُھپ کر خوب شراب پیا کرتا تھا حالانکہ وہ اپنے مریدوں کو سختی سے شراب پینے سے روکتا تھا اور کسی نشہ کی چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا حتی کہ تمباکو نوشی سے بھی منع کرتا تھا اور اس کی بیوی نے کہا کہ میں اس کی سخت غربت کے ایام میں بھی وفادار رہی ہوں مگر اب مجھے یہ معلوم کر کے سخت افسوس ہوا ہے کہ اُس نے ایک مالدار بُڑھیا سے شادی کرنے کی خاطر یہ نیا مسئلہ بیان