دعوت الامیر — Page 256
(roy) دعوة الامير بوضاحت آپ کے بیان کردہ دعوے کو ثابت کروں اور اہلِ یورپ کے تیار کردہ عِلْمُ اللَّسَانِ سے جو اس دعوے کی تائید ہوتی ہے وہ بھی بیان کروں اور جہاں اہلِ یورپ نے ٹھوکر کھائی ہے اس کو بھی کھول دوں۔وَمَا التَّوْفِيقُ إِلَّا مِنَ اللَّهِ۔یہ تحقیق عربی زبان کے مطابق ایک ایسی بے نظیر تحقیق ہے کہ دنیا کے نقطہ نظر کو اسلام کے مطابق بالکل بدل دے گی اور اسلام کو بہت بڑی شوکت اس سے حاصل ہوگی۔ان ظاہری علوم کے علاوہ جو آپ کو دیئے گئے باطنی علوم جو انبیاء کا ورثہ ہیں وہ بھی آپ کو عطا ہوئے اور ان علوم کے مقابلہ سے سب دشمن عاجز رہے اور کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ کر سکا جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں آپ کوئی جدید شریعت لیکر نہ آئے تھے بلکہ پہلی پیشگوئیوں کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور علوم قرآنیہ کا پھیلانا اور سکھانا آپ کا کام تھا۔قرآن کریم کے بعد اب کوئی نیا علم آسمان سے نازل نہیں ہو سکتا، سب علوم اس کے اندر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا معلم نہیں آسکتا جو شخص آئیگا آپ کے سکھائے ہوئے علوم کی تجدید کرنے والا ہی ہوگا اور انہیں کو دوبارہ تازہ کرے گا جیسا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ (تذکرہ صفحہ ۴۵۔ایڈیشن چہارم) ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے آتی ہے۔پس مبارک ہے وہ جس نے سکھایا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مبارک ہے وہ جس نے سیکھا یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔غرض علوم چونکہ قرآن کریم پر ختم ہو گئے اور جو مامور آئیں گے اُن کو قرآن کریم کے خاص علوم ہی سکھائے جائیں گے نہ کوئی جدید علوم اور ان کی سچائی کی یہی علامت ہوگی