دعوت الامیر — Page 236
(rry) دعوة الامير کی تھی اور اللہ تعالیٰ سے جھوٹے اور کچے کے درمیان فیصلہ چاہا۔یہ شخص بھی بہت جلد یعنی چند ماہ کے اندراندر طاعون کی مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گیا اور لوگوں کے لئے عبرت کا موجب بنا۔ایک شخص فقیر مرزا نامی ساکن دوالمیال ضلع جہلم کا تھا۔اس نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی نسبت مجھے بتایا گیا ہے کہ اس رمضان کی ستائیس تاریخ تک وہ ہلاک ہو جائیں گے اور جماعت احمدیہ کے مقامی ممبروں کو ایک تحریر لکھ کر دے دی جس میں اس کشف کا ذکر کیا اور لکھا کہ اگر ۲۷ ؍رمضان المبارک ۳۲۱ ھ تک مرزا صاحب ہلاک نہ ہوئے یا اُن کا سلسلہ تباہ نہ ہوا تو میں ہر قسم کی سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس کا غذ پر بہت سے لوگوں کے دستخط کر وا کر جماعت احمدیہ کے ممبروں کو دیدیا۔یہ کاغذ جیسا کہ اُس پر لکھا ہوا ہے سات رمضان المبارک (۳۲! دھ کو کھا گیا۔اس کے بعد ۲۷ رمضان تو گز رہی گئی اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔صادقوں پر جھوٹوں کی باتوں کا کیا اثر ہوسکتا تھا، مگر اگلا رمضان آیا تو اس گاؤں میں طاعون نمودار ہوئی اور پہلے اس شخص کی بیوی مری۔پھر یہ خود بیمار ہوا اور پورے ایک سال کے بعد اسی تاریخ جس تاریخ کو اس نے وہ تحریر لکھ کر دی تھی یعنی سات رمضان المبارک کو ی شخص سخت تکلیف اور دُکھ اُٹھا کر مر گیا اور چند دن بعد اس کی لڑکی بھی گزرگئی۔یہ مثالیں اگر جمع کی جائیں تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ جائیں کیونکہ سینکڑوں ہزاروں آدمیوں نے دلائل سے تنگ آکر اور ضد میں گرفتار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف دعائیں کیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ہلاکت اور ذلت کے نشان کو کئی رنگ میں دکھایا ہے۔جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کو بچے کی زندگی میں