دعوت الامیر — Page 224
۲۲۴ دعوة الامير نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا وہ اُس زمانے کے خیالات کے مطابق تھے۔پس لوگوں نے ان کو اپنے اندرونی احساسات کے مطابق پا کر قبول کر لیا۔زمانے کے مطابق خیالات دو کے ہوتے ہیں یا تو وہ کثیر آبادی کے خیالات کے مطابق ہوں یا وہ کثیر آبادی کے خیالات کے تو مخالف ہوں ، مگر ان خیالات کی تائید میں ہوں جو اس وقت کے دنیاوی علوم کا نتیجہ ہوں۔اول الذکر قسم کے خیالات کا پھیلا نا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن ثانی الذکر قسم کے خیالات بھی گو ابتداء مخالفت کا منہ دیکھتے ہیں مگر چونکہ علوم جدیدہ کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد علوم جدیدہ کے فروغ کے ساتھ ساتھ پھیلتے جاتے ہیں۔حضرت اقدس کے خیالات ان دونوں قسم کے خیالات کے مخالف تھے۔آپ ان تعلیموں کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے جو نہ رائج الوقت خیالات کے مطابق تھیں اور نہ علوم جدیدہ کی تعلیم کے ذریعے جو خیالات پھیل رہے تھے ان کے مطابق تھیں اس لئے آپ کو دونوں فریق سے مقابلہ در پیش تھا۔پرانے خیالات کے لوگوں سے بھی اور جدید خیالات کے لوگوں سے بھی ، قدامت پسند آپ کو ملحد قرار دیتے تھے اور علوم جدیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کو تنگ خیال اور رجعت قہقری کا مُمد قرار دیتے تھے کیونکہ آپ اگر ایک طرف حیات مسیح، قصص و روایات باطلہ، ملائکہ کے متعلق عوام الناس کے خیالات ، نسخ قرآن، دوزخ و جنت کے متعلق عوام الناس کے خیالات اور شریعت میں تنگی کے خلاف نہایت شدت سے وعظ کرتے تھے تو دوسری طرف احکام شریعت کی لفظاً پابندی ،سود کی حرمت ، ملائکہ کے وجود، دعا کے فوائد ، جنت و دوزخ کے حق ہونے ، الہام کے لفظ مقررہ میں نازل ہونے اور معجزات کے حق ہونے کی تائید میں زور دیتے تھے۔نتیجہ یہ تھا کہ نئے اور پرانے خیالات کے گروہوں میں کسی طبقہ سے بھی آپ کے خیالات نہیں ملتے تھے۔