دعوت الامیر — Page 214
(۲۱۴) دعوة الامير کے لئے بیشک ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی بزرگ کو جس کی صداقت اور تقویٰ اور علمیت اُن پر ظاہر ہوگئی ہے اپنا رہبر بنالیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہر شخص کو خواہ وہ علم اور فہم رکھتا ہوا ایسا ہی کرنا چاہئے اور اگر وہ دوسرے کی اندھا دھند تقلید نہیں کرتا تو گنہگار ہے بلکہ علم رکھنے والے شخص کو چاہئے کہ جس بات کو وہ قرآن وحدیث کی نصوص سے معلوم کرے اُس میں اپنے علم کے مطابق عمل کرے۔آپ نے اس خیال کی لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ محض دنیاوی باتوں کو دینی بنالیا جائے۔آپ نے بتایا کہ زبانیں سب خدا کی ہیں جو زبان مفید ہو اس کو سیکھنا چاہئے اور جس قدر علوم انسان کی جسمانی، اخلاقی علمی، تمدنی، سیاسی ، روحانی حالت کے لئے مفید ہیں ان کو پڑھنا نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ ضروری ہے اور بعض حالتوں میں جبکہ اُن کو خدمت دین کے لئے سیکھا جائے موجب ثواب ہے۔آپ نے سود کی لعنت سے بچنے کی بھی مسلمانوں کو ہدایت کی اور بتایا کہ یہ کم عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے۔اور اس کو معمولی دنیاوی فوائد کی خاطر بدلنا نہیں چاہئے۔اسی طرح آپ نے بتایا کہ دین کے مسائل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک اصول اور ایک فروع۔اُصول قرآن کریم سے ثابت ہیں اور ان میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی شخص سمجھنا چاہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور جو فروعی مسائل ہیں ان کی دو حالتیں ہیں ایک یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص طریق پر ایک کام کرنے کا حکم دے دیا ہے اور اس کے سوا اور کسی طریق پر اس کے کرنے سے روک دیا ہے۔اس صورت میں تو اسی طریق کو اختیار کرنا چاہئے جس کے اختیار کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ