دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 397

دعوت الامیر — Page 213

(rir) دعوة الامير کو ایک دریا کے کنارے کی طرح محدود شے قرار دیتے اور اپنی بے دینی کو دین کے پردہ کے نیچے چھپاتے ہیں۔اسی طرح آپ نے بتایا کہ احکام اسلام انسان کی تکمیل کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہر زمانے اور ہر علمی حیثیت کے لوگوں کے لئے یکساں مفید ہیں اور ان کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں ہوسکتی۔پس یہ غلط ہے کہ اب ان احکام پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی یا یہ کہ ان کا قائمقام اور کاموں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔اسی طرح آپ نے بتایا کہ ایک عبادات اور سنتیں ہیں اور ایک رواج ملکی اور دستور قومی۔عبادت اور سنت کے علاوہ ایسی باتوں میں جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملکی رواج اور قومی دستور کے مطابق کرتے تھے لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ بھی آپ ہی کی طرز کو اختیار کریں ظلم ہے خود صحابہ ان امور میں مختلف طریقوں کو اختیار کرتے تھے اور کوئی ایک دوسرے کو بُرا نہ کہتا تھا۔آپ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی رڈ کیا جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے انسان ہیں اور آپ کا کوئی حق نہیں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں۔آپ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک خاص فہم پاتے ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتا اس لئے ان کی تشریح کا قبول کرنا مومن کا فرض ہوتا ہے ورنہ ایمان سلب ہو جاتا ہے۔آپ نے اس خیال کی بھی غلطی ظاہر کی کہ جو کچھ کسی بزرگ نے کہدیا اس کا تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے ایسے لوگوں کے لئے جو اجتہاد کا مادہ نہیں رکھتے سہولت عمل