دعوت الامیر — Page 200
(r۔۔) دعوة الامير تقدیم و تاخیر کے چکر میں پڑے ہوئے تھے۔آپ نے اس بات پر بھی جرح کی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اسرائیلی قصوں کو بھر دیا گیا ہے اور بتایا کہ محض بعض واقعات میں مشابہت کا پیدا ہو جانا یہ ثابت نہیں کرتا که در حقیقت یہ دونوں باتیں ایک ہیں، قرآن کریم اگر بعض واقعات کو مختلف الفاظ میں بیان کرتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ ان واقعات کو اس صورت میں قبول نہیں کرتا جس صورت میں افسانہ گوان کو بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ در حقیقت قرآن کریم افسانے کی کتاب ہے ہی نہیں وہ جو واقعات پچھلے بھی بیان کرتا ہے وہ آگے کی پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور ان کے بیان کرنے سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اسی طرح کا معاملہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کی امت کے بعض افراد سے ہونے والا ہے پس اس کی تفسیر میں یہودیوں کے قصوں اور افسانوں کو بیان کرنا اس کے مطلب کو گم کر دینا ہے۔قرآن کریم پہلی کتب پر بطور شاہد کے آیا ہے نہ کہ پہلی کتب اس پر بطور شاہد کے ہیں کہ اس کے بتائے ہوئے مضمون کے خلاف ہم ان کتب سے شہادت طلب کریں ، ہمیں چاہئے کہ خود قرآن کریم سے اس کی تفسیر کریں اور اس کے مطلب کو باہر سے تلاش کرنے کی بجائے اس کے اندر ڈھونڈیں۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن کریم ایک مرتب اور بار بط کتاب ہے اس کے مضامین یونہی بکھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ شروع بسم اللہ سے لے کر وَ النَّاسِ تک اس کی آیات اور اس کی سورتوں میں ایک ترتیب ہے جو ایسی اعلیٰ اور طبعی ہے کہ جس شخص کو اس پر اطلاع دی جاتی ہے وہ اس کے اثر سے وجد میں آجاتا ہے اور اس کے مقابلے میں کسی انسانی کتاب کی ترتیب میں لطف حاصل نہیں کر سکتا جن لوگوں نے قرآن کریم کے مضامین