دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 397

دعوت الامیر — Page 190

(19۔) دعوة الامير اور آپ نے اس خیال کو بھی رڈ کیا ہے کہ ابلیس ملائکہ کا استاد یا یہ کہ ملائکہ کے ساتھ رہنے والا وجود تھا وہ تو ایک خبیث روح تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِيْنَ (البقرہ:۳۵) اس کا دل پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا منکر تھا۔آپ نے اس خیال کی غلطی کو بھی دُور کیا کہ ملائکہ وہمی وجود ہیں یا طاقتوں کو کہتے ہیں۔آپ نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر ملائکہ کا وجود ثابت کیا اور ان لوگوں کی جہالت کو ظاہر کیا جو اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورج کو پیدا کیا اور آواز پہنچانے کے لئے ہوا کو بنا یا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے پر حرف نہیں آیا لیکن کہتے ہیں کہ روحانی امور کے سرانجام دینے کے لئے اس نے اگر کوئی وسائط پیدا کئے ہیں تو اس سے اس کی قدرت پر حرف آتا ہے اور خود ان کے عقیدے سے ان کو ملزم قرار دیا اور ان کے اقرار سے ان کو پکڑا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وسائط کو پیدا کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اپنے احکام کو بندے تک پہنچا نہیں سکتا، بلکہ اس لئے ہے کہ بندہ اللہ کا کلام سننے کے لئے وسائط کا محتاج ہے اور اس لئے کہ یہ وسائط بندے کی ترقیات میں محمد اور معاون ہوتے ہیں۔غرض آپ نے ایمان کے دوسرے رکن کے متعلق جو خرابیاں مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں ان کو خوب اچھی طرح دور کیا اور ملائکہ کے وجود کو اس صورت میں ظاہر کیا جس صورت میں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو پیش کیا تھا۔تیسرا رکن ایمان کا کتب سماویہ ہیں ان کی نسبت بھی مسلمانوں کے ایمان بالکل متزلزل ہو چکے تھے اور عجیب در عجیب خیالات مسلمانوں میں کتب سماویہ خصوصاً قرآن کریم کے متعلق پیدا ہو گئے تھے اور درحقیقت اسلام میں بلحاظ ایمان کہ قرآن کریم ہی اصل ہے کیونکہ دوسری کتب پر ایمان لانا تو صرف اُصولی طور پر ہے۔ورنہ وہ نہ موجود ہیں