دعوت الامیر — Page 189
(IAA) دعوة الامير کرتے ہیں کہ قوتوں اور طاقتوں کا نام ملائکہ رکھا گیا اور یہاں تک دلیر ہو گئے کہ علی الاعلان قرآن کریم اور احادیث کی تعلیم کے خلاف کہتے ہیں کہ ز جبریل امین قرآں بہ پیغام نمی خواہم، بلکہ ملائکہ کے وجود پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے خلاف سمجھتے ہیں۔حضرت اقدس نے ان خلاف اسلام اعتقادات کو بھی آکر رد کیا ہے اور صحیح اعتقاد کو پھیلا یا ہے اور ملائکہ کی ذات سے اعتراضات کو دور کیا ہے۔آپ نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض نہیں کیا کرتے اور نہ وہ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں،ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَ هُمْ وَيَفْعَلُونَ مَايَؤُ مَرُوْنَ (التحريم:-) ملائکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جن باتوں کا ان کو حکم دیا جاتا ہے انہیں وہ بجالاتے ہیں۔پس ایسی مخلوق جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی ان طاقتوں کے ساتھ کیا ہے جو اطاعت اور فرمانبرداری کی طاقتیں ہیں کس طرح بدی میں مبتلا ہوسکتی ہے اور فاحشہ عورتوں کے عشق میں مبتلا ہوسکتی ہے اور اللہ کو بھلا کر عذاب الہی میں مبتلا ہوسکتی ہے۔اگر ملائکہ گناہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو ان پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا جاتا ہے۔کیونکہ ایمان لانے کے تو معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ جس پر ایمان لایا جائے اس کی باتوں کو مانا جائے۔جو لوگ نافرمانی کر سکتے ہیں ان پر ایمان لانے کا حکم دینا گو یا خود ہلاک ہونے کا حکم دینا ہے۔اسی طرح آپ نے بتایا کہ ملائکہ روحانی وجود ہیں وہ ادھر اُدھر دوڑے دوڑے نہیں پھرتے بلکہ جس طرح سورج اپنی جگہ سے روشنی دیتا ہے وہ بھی اپنے مقام سے اللہ تعالی کے احکام کو بجالاتے ہیں اور ان طاقتوں کی مدد سے جو ان کی اطاعت میں لگائی گئی ہیں سب کام کرتے ہیں۔