دعوت الامیر — Page 184
۱۸۴ دعوة الامير مُجتنب ہیں بلکہ وہ دوسرے لوگوں پر ناراض ہوتے ہیں کہ انہوں نے شرک کر کے اسلام کو صدمہ پہنچایا ہے ، مگر تعجب ہے کہ یہ لوگ خود بھی شرک میں مبتلا ہیں اور دوسروں سے ان کو صرف اس قدر امتیاز حاصل ہے کہ یہ ہر ایک شخص کو اللہ کا شریک نہیں بناتے۔صرف مسیح علیہ السلام کو اللہ کا شریک سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر بیٹھا ہوا یقین کرتے ہیں،ان کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو افضل الانبیاء تھے زمین میں مدفون ہیں لیکن حضرت مسیح نعوذ بالله من ذالک دو ہزار سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو موت ہی نہیں دیتا۔قرآن کریم میں صاف پڑھتے ہیں کہ جن بزرگوں کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔أَمْوَاتْ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَا أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (النحل : ۲۲) پھر دیکھتے ہیں کہ مسیحی مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنائے ہوئے ہیں مگر یہ حضرت مسیح کی زندگی کا خیال نہیں چھوڑتے اور اپنے آپ کو موحد کہتے ہوئے جھجکتے نہیں۔اسی طرح یہ لوگ شرک کے خلاف تو آواز بلند کرتے ہیں مگر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح مُردے زندہ کیا کرتے تھے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خود بھی اس دنیا میں مردوں کو زندہ کر کے نہیں بھیجتا ، جیسا کہ فرماتا ہے۔وَحَرَامْ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لاَ يَرْجِعُونَ ( الانبياء : ۹۶) جو لوگ فوت ہو چکے ہیں ان کے لئے ہم نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ واپس نہیں لوٹ سکیں گے اسی طرح فرماتا ہے وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المؤمنون: ۱۰۱) یعنی جو لوگ مرچکے ہیں ان کے پیچھے ایک روک ڈال دی گئی ہے جو قیامت کے دن تک جاری رہے گی اس سے پہلے یہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔