دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 397

دعوت الامیر — Page 180

(IA۔) دعوة الامير اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت امت محمدیہ نہایت خطرناک حالت کو اختیار کرنے والی ہے جبکہ علم دنیا سے اٹھ جائے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایک فرقہ ایسا ہوگا جو حق پر ہوگا اور وہ فرقہ ہوگا جو صحابہ کے رنگ میں رنگین ہوگا اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے رنگ میں رنگین صرف مسیح موعود کی جماعت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اس امت کا پہلا حصہ اچھا ہے یا آخری۔پس مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی سے مراد مسیح موعود کی جماعت ہے اور حق بھی یہی ہے کہ مسیح موعود کی جماعت ہو کیونکہ کوئی جماعت صحابہؓ کی طرح نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ کسی مرسل من اللہ کی صحبت یافتہ نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں سے علم اور دین کے مٹ جانے پر مسیح موعود کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ پھر اسلام کو قائم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔پس مسیح موعود ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شخص جو مدعی ہو اسلام کی اصل تعلیم کو قائم کرنے والا اور قرآن کریم کے صحیح علوم بیان کرنے والا ہو اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسیح موعود نہیں ہو سکتا اور جو آخری زمانے کے پرفتن ایام میں اسلام کی تعلیم کو لوگوں کے خیالات سے پاک کرے اور اس کی خوبی کو دنیا پر ظاہر کرے اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی کا نظارہ دکھاوے، اس کے سوا کوئی اور شخص مسیح موعود نہیں ہوسکتا اور جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی تو مسیحیت کے مدعی کے دعوے کو پر کھنے کے لئے ایک راہ ہمارے لئے یہ بھی گھل گئی ، ہم دیکھیں کہ کیا فی الواقع اسلام اس وقت سرتا پا اپنی اصل شکل کو چھوڑ چکا ہے۔دوسرے یہ کہ کیا اس شخص نے فی الواقع اس کو اس کی اصل صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔