دعوت الامیر — Page 167
(192) دعوة الامير سے کیا سامان کرتا چلا آیا ہے۔مسیحیوں نے اس عقیدے کا یہ حل بتا یا کہ خُدا نے مسیح کے ذریعے سب دنیا کو ہدایت کی طرف بلایا ہے اس لئے اس پر کسی قوم کی طرفداری کا اعتراض نہیں ہوسکتا مگر یہ حل بھی صحیح نہ تھا کیونکہ اس سے بھی یہ سوال حل نہ ہوتا تھا کہ مسیح کی آمد سے پہلے خدا نے دنیا کی ہدایت کے لئے کیا سامان کیا تھا۔بائیبل سے تو ہمیں اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ دوسری اقوام کے لئے اس کی تعلیم نہ تھی لیکن مسیح کے بعد لوگوں کے لئے اگر دروازہ کھولا بھی گیا تو اس سے پہلے جو کروڑوں کروڑ لوگ دیگر اقوام کے گزر گئے ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا سامان کیا۔غرض یہ سوال پلا شافی جواب کے پڑا تھا اور لوگوں کے دلوں کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا کہ حضرت مرز اصاحب نے قرآن کریم سے یہ استدلال کر کے اس نقطہ نگاہ کو ہی بدل دیا جو اس وقت تک دنیا میں قائم تھا اور بتایا کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ۔وَاِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَافِيهَا نَذیز (فاطر: ۲۵) کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے رسول نہیں بھیجا، پس ہر ملک اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے رسول گزر چکے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان بلا نبیوں کے تھا، یا چین بلانبیوں کے تھا یا روس پلانبیوں کے تھا، یا افغانستان بلانبیوں کے تھا، یا افریقہ بلا نبیوں کے تھا یا یورپ بلا نبیوں کے تھا، یا امریکہ بلانبیوں کے تھا، نہ ہم دوسری اقوام کے بزرگوں کا حال سن کے ان کا انکار کرتے ہیں اور ان کو جھوٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی گزرچکے ہیں۔دوسری اقوام میں نبیوں اور شریعتوں اور کتابوں کا پایا جانا ہمارے مذہب کے خلاف اور اس کے راستے میں روک نہیں ہے بلکہ اس میں اس کی تصدیق ہے۔ہاں ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ زمانے کے حالات کے مطابق اللہ