دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 397

دعوت الامیر — Page 166

دعوة الامير خدائی طاقتوں کا عقیدہ سکھا یا اور پانچویں کو ہر چیز کا الگ دیوتا بتایا یا یہ کہ ایک سے کہا کہ اس کی ذات بالکل منزہ ہے۔ممکن نہیں کہ وہ جسم اختیار کرے۔دوسری ملک کو بتایا کہ انسانی جسم میں وہ حلول کر سکتا ہے اور تیسری کو یہ بتایا کہ وہ ادنی جانوروں حتی کہ شورتک کی شکل اختیار کر لیتا ہے یا مثلا ایکٹ کو تو اس نے بتایا کہ بعث بعد الموت حق ہے۔اور دوسری " ال کو بتایا کہ بعث بعد الموت نہیں ہے۔ایک سے کہا کہ مردے زندہ ہو کر دنیا میں نہیں آتے۔دوسری سے کہا کہ انسان مرنے کے بعد نئی نئی جونوں میں واپس آتا ہے۔غرض یہ تو ممکن ہے کہ احکام اللہ تعالیٰ مختلف اقوام کے حالات کو دیکھ کر بیان فرمادے، مگر یہ ممکن نہیں کہ واقعات اور دائی صداقتیں بھی مختلف اقوام کو مختلف طور پر بتائے لیکن چونکہ موجودہ مذاہب کے صرف احکام میں اختلاف نہیں بلکہ دائی صداقتوں میں بھی اختلاف ہے اس لئے ان سب کو خدا تعالیٰ کی طرف جانے والے مختلف راستے نہیں کہہ سکتے۔دوسرا اعتراض اس عقیدہ پر یہ پڑتا تھا کہ ہندو لوگ ایک طرف تو اپنے مذہب کو سب مذاہب سے افضل قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اسے سب سے پرانا مذہب قرار دیتے ہیں۔عقلِ سلیم اسے تسلیم نہیں کر سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے افضل مذہب اتار کر پھر ادنی مذاہب اُتارے جبکہ انسان اپنی ابتدائی حالت میں کامل مذہب قبول کرنے کی طاقت رکھتا تھا تو پھر بعد کو علوم وفنون میں ترقی حاصل کرنے پر اس کی طرف ادنی دین اتارنے کی کیا وجہ تھی ؟ بعد کو تو وہی دین آسکتا ہے جو پہلے سے زیادہ مکمل ہو یا کم سے کم ویسا ہی دین ہو۔یہ دونوں اعتراض ایسے تھے جن کا جواب اس عقیدے کے پیش کرنے والوں سے کچھ نہ بنتا تھا اور یہ اعتراض قائم رہتا تھا کہ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کے لئے ابتدائے عالم ۵ چینی ۶ مسلمانوں کو لے مسیحیوں ۸ ہنود ۹ اسلام نا یہود کے بعض قبائل 11 اہل اسلام ۱۲؎ ہنود۔