دعوت الامیر — Page 153
(۱۵۳) دعوة الامير رہے تھے کیونکہ مسیحیت اس سرعت کیساتھ اسلام کو کھاتی چلی جارہی تھی کہ ایک صدی تک اسلام کے بالکل مٹ جانے کا خطرہ تھا، مسلمان مسیحیوں کے مقابلے میں اسقدر زک پر زک اٹھا رہے تھے کہ نو مسلم اقوام تو الگ رہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد یعنی سادات میں سے ہزاروں اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہو گئے تھے اور نہ صرف عیسائی ہو گئے تھے بلکہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف سخت گندالٹریچر شائع کر رہے تھے اور منبروں پر چڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر ایسے دل آزار اتہام لگائے جاتے تھے کہ ایک مسلمان کا کلیجہ ان کو سن کر چھلنی ہوجاتا تھا، مسلمانوں کی کمزوری اسقدر بڑھ گئی تھی کہ وہ مردہ قوم ہنود کی جس کو تبلیغ کے میدان میں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور جو ہمیشہ اپنے گھر کی حفاظت ہی کی کوشش اور وہ بھی ناکام کوشش کرتی رہی ہے اسے بھی جرات پیدا ہو گئی اور اس میں سے بھی ایک فرقہ آریوں کا کھڑا ہو گیا جس نے اپنا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا قرار دیا اور اس کے لئے عملی طور پر جد و جہد بھی شروع کر دی۔یہ نظارہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے ایک بے خطا نشانچی کی نعش پر گدھ جمع ہو جاتے ہیں، یا تو وہ اس کے زور بازو سے ڈرکر اس کے قریب بھی نہ پھٹکا کرتے تھے یا اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھانے لگتے ہیں اور اس کی ہڈیوں پر بیٹھ کر اس کا گوشت کھاتے ہیں، بعض مسلمان مصنف تک جو اسلام کی تائید کے لئے کھڑے ہوتے تھے، بجائے اس کی تعلیم کی خوبی ثابت کرنے کے اس امر کا اقرار کرنے لگ گئے تھے کہ اسلام کے احکام زمانہ جاہلیت کے مناسب حال تھے اس لئے موجودہ زمانے کی روشنی کے مطابق ان پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔اس اندرونی مایوسی اور بیرونی حملے کے وقت حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی حفاظت کا کام شروع کیا اور سب سے پہلاحملہ ہی ایساز بر دست کیا کہ