دعوت الامیر — Page 152
(۱۵۲) دعوة الامير یہ غلبہ دین عیسی بن مریم کے زمانے میں ہوگا اور قرائن عقلیہ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ تمام ادیان کا ظہور جیسا کہ اس زمانے میں ہوا ہے اس سے پہلے نہیں ملتا۔آپس میں میل جول کے زیادہ ہو جانے کی وجہ سے اور پریس کی ایجاد کے سبب سے کتب کی اشاعت میں سہولت پیدا ہو جانے کے سبب سے تمام ادیان کے پیروؤں میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے اور اس قدر مذاہب کی کثرت نظر آتی ہے کہ اس سے پہلے اس قدر کثرت نظر نہیں آتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو صرف چار دین ہی اسلام کے مقابلے میں آئے تھے یعنی مشرکین مکہ کا دین اور نصاریٰ کا دین اور یہود اور مجوس کا دین۔پس اُس زمانے میں اس پیشگوئی کے ظہور کا ابھی وقت نہیں آیا تھا، اس کا وقت اب آیا ہے کیونکہ اس وقت تمام ادیان ظاہر ہو گئے ہیں اور نو ایجادسواریوں اور تار اور پریس وغیرہ کی ایجاد سے مذاہب کا مقابلہ بہت شدت سے شروع ہو گیا ہے۔غرض قرآن کریم اور احادیث اور عقل صحیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا غلبہ ادیان باطلہ پر ظاہری طور پر مسیح موعود کے زمانے میں ہی مقدر ہے اور مسیح موعود کا اصل کام یہی ہے اس کام کو اس کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا اور جو شخص اس کام کو بجالائے اسکے مسیح موعود ہونے میں کچھ شک نہیں اور واقعات سے ثابت ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے ہاتھوں سے پورا کر دیا ہے پس آپ ہی مسیح موعود ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوئی سے پہلے اسلام کی حالت ایسی نازک ہو چکی تھی کہ خود مسلمانوں میں سے سمجھدار اور زمانے سے آگاہ لوگ یہ پیشگوئیاں کرنے لگے تھے کہ چند دنوں میں اسلام بالکل مٹ جائے گا اور حالات اس امر کی طرف اشارہ بھی کر