دعوت الامیر — Page 143
(Ir) دعوة الامير اجنبیوں اور راز داروں سے کہتا ہے کہ مجھے دیکھو اور مجھے جھوٹا کہنے سے پہلے سوچ لو کہ کیا تم مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو؟ کیا مجھے جھوٹا کہہ کر تمہارے ہاتھ سے وہ تمام ذرائع نہیں نکل جائیں گے جن کے ساتھ تم کسی چیز کی حقیقت معلوم کیا کرتے ہو؟ اور کیا مفتری قرار دیکر تم پر وہ سب دروازے بند نہیں ہو جائیں گے جن میں سے گزر کر تم شاہد مقصود کو پایا کرتے ہو، دنیا کی ہر چیز تسلسل چاہتی ہے اور ہر شئے مدارج رکھتی ہے نہ نیکی درمیانی مدارج کو ترک کر کے اپنے کمال تک پہنچ سکتی ہے اور نہ بدی درمیانی منازل کو چھوڑ کر اپنی انتہاء کو پا سکتی ہے پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ مغرب کی طرف دوڑنے والا اچانک اپنے آپ کو مشرق کے دور کنارے پر دیکھے؟ اور جنوب کی طرف جانے والا افق شمال میں اپنے آپ کو کھڑا پائے؟ میں نے اپنی سب زندگی تم میں گزاری ہے۔میں چھوٹا تھا اور تمہارے ہاتھوں میں بڑا ہوا، میں جوان تھا اور تمہارے ہاتھوں میں ادھیڑ ہوا، میری خلوت و جلوت کے واقف بھی تم میں موجود ہیں، میرا کوئی کام تم سے پوشیدہ نہیں اور کوئی قول تم سے مخفی نہیں۔پھر کوئی تم میں سے ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو یا ظلم کیا ہو یا فریب کیا ہو یا دھوکا دیا ہو، یا کسی کا حق مارا ہو، یا اپنی بڑائی چاہی ہو، یا حکومت حاصل یا کرنے کی کوشش کی ہو، ہر میدان میں تم نے مجھے آزمایا اور ہر حالت میں تم نے مجھے پرکھا، مگر ہمیشہ میرے قدم کو جادہ اعتدال پر دیکھا اور ہر کھوٹ سے مجھے پاک پایا، حتی کہ دوست اور دشمن سے میں نے امین و صادق کا خطاب پایا۔پھر یہ کیا بات ہے کہ کل شام تک تو میں امین تھا، صادق تھا، راستباز تھا ، جھوٹ سے کوسوں دور تھا ، راستی پر فدا تھا بلکہ راستی مجھ پر فخر کرتی تھی، ہر بات اور ہر معاملہ میں تم مجھ پر اعتبار کرتے تھے اور میرے ہر قول کو تم قبول کرتے تھے مگر آج ایک دن میں ایسا تغیر ہو گیا کہ میں بدتر سے بدتر اور