دعوت الامیر — Page 114
(۱۱۴) دعوة الامير اور اس کی جگہ آداب اور تسلیم کہتے ہیں ، بلکہ ہندوؤں کی نقل میں بندگی تک کہہ دیتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ میں آپکے سامنے اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہوں اور یہ الفاظ اس لفظ کی جگہ استعمال کرنے جس کے معنے سلامتی اور حفاظت کے ہیں در حقیقت ملاعنہ ہی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص شرک کے کلمات کہتا ہے، یا خدا کے لئے جس فرماں برداری کا اظہار مخصوص ہے اس کا اظہار بندوں کے لئے کرتا ہے وہ خدا کی لعنت ایک دوسرے پر ڈالتا ہے۔لفظ آداب جس کا مسلمانوں میں رواج زیادہ ہے اس کا درحقیقت یہی مطلب ہے کہ ہم بندگی اور تسلیم کہتے ہیں اور یہ لفظ اس لئے اختیار کر لیا گیا ہے تا ایسے مشرکانہ الفاظ بار بار استعمال کرنے سے دل میں جو ملامت پیدا ہوتی ہے اس کے اثر سے محفوظ ہو جائیں۔ایک حمد فی تغییر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عزت بوجہ دین کے نہ ہوگی بلکہ بوجہ مال اور سیاسی اعمال وغیرہ کے ہوگی ، (جی الکرامتہ فی ثار القیامۃ صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس وقت صاحب مال کی تعظیم ہوگی۔(حجج الكرامة في أثار القيامۃ صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یہ حالت بھی اب پیدا ہے وہ قدیم دستور جو خاندانی وجاہت کو سب بواعث عزت پر مقدم کئے ہوئے تھا ، اب بالکل مٹ گیا ہے اور عزت کا ایک ہی معیار ہے کہ انسان صاحب مال ہو، پہلے مالدار اور دولتمند لوگ علماء کی مجالس میں حاضر ہوتے تھے اور اب