دعوت الامیر — Page 113
(Ir) دعوة الامير اس حدیث کی تائید اور بہت سی احادیث سے بھی ہوتی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس وقت سب قسم کے علم اُٹھ جائیں گے بلکہ اس سے مرا دصرف علوم دینیہ ہیں، ور نہ علوم دنیاوی کی زیادتی احادیث سے ثابت ہے۔چنانچہ ابو ہریرہ سے ترمذی میں روایت ہے کہ آخری زمانے میں دینی اغراض کے سوا اور اغراض کے لئے علوم سیکھے جائیں گے ( ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فی اشراط الساعة ) اور یہی حالت اس وقت پیدا ہے۔علوم دنیاوی اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ایک عالم ان کی ترقی پر حیرت میں ہے اور علوم مذہبی اس قدر بے توجہی کا شکار ہور ہے ہیں کہ جہاں علماء کہلا رہے ہیں۔تمدنی حالت :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کی تمدنی حالت کا بھی نقشہ کھینچا ہے اور بہت سی علامات ایسی بیان فرمائی ہیں جن سے اس وقت کے تمدن کا پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔چنانچہ اُن علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت سلام کا طریق بدلا ہوا ہو گا۔امام احمد بن حنبل معاذ بن انس سے روایت کرتے ہیں کہ اس امت کی خرابی اور بربادی کے زمانے کی ایک یہ علامت ہوگی ( اور یہی زمانہ مسیح موعود کا ہے ) کہ لوگ آپس میں ملتے ہوئے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے (مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۴۳۹) گوشراح اس حدیث کے یہ معنے بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد سفلہ لوگوں کا ملتے وقت ایک دوسرے کو گالیاں دینا ہے ، مگر در حقیقت اس میں اس سے بھی بڑھ کر ایک اور تغیر کی طرف اشارہ کیا ہے جو سفلوں میں نہیں بلکہ بعض علاقوں کے مسلمان شرفاء میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ بندگی اور تسلیم کا رواج ہے۔ہندوستان میں بڑے لوگ آپس میں سلام کہنا ہتک خیال کرتے ہیں