دعوت الامیر — Page x
سو سال پہلے حضرت نبی کریم علیہ التحیۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ سے علم پا کر بیان فرمائی تھیں جن میں مسلمانوں کی موجودہ دینی ، اخلاقی اور سیاسی تنزل و کمزوری اور مخالفین اسلام کی ماڈی قوت و طاقت اور ظاہری عظمت و برتری کی تصویر کچھی ہوئی ہے اس حصہ کو پڑھ کر ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا من جانب اللہ ہونا آفتاب عالم تاب کے مانند روشن و درخشاں نظر آتا ہے اور دوسری طرف دل اس یقین سے معمور ہو جاتا ہے کہ حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ خوشخبری دی ہے کہ اسلام کا دوبارہ احیاء و عروج اور اُس کی بے نظیر ترقیات مسیح موعود و مہدی مسعود کے ذریعے ہوں گی حضور انور کی یہ پیشگوئی بھی ضرور بالضرور پوری ہوگی۔یہ وہی کتاب دافع حجاب ہے جو بہت سے لوگوں کی ہدایت کا موجب ہونے کے علاوہ خان فقیر محمد خان مرحوم سپر نٹنڈنٹ انجینیئر صوبہ سرحد کے بھی سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کا جبکہ آپ لنڈن میں تھے باعث بنی۔آپ ۱۹۱۰ ء میں لنڈن گئے تھے، وہاں انگریزوں کے ظاہری کر و فر اور ماڈی قوت و طاقت کے مشاہدے نے آپ کو ایسا مرعوب کر دیا کہ آپ اسلام کے آئندہ عروج سے بالکل مایوس ہو گئے اور اسلام کا مستقبل آپ کو نہایت تیر و تار نظر آنے لگا۔اسی دوران میں آپ نے یہی کتاب ”دعوۃ الا میرے نکالی جو آپ کے برادر معظم محمد اکرم خان صاحب احمدی نے سفر لنڈن کے وقت چند اور کتابوں کے ساتھ آپ کے بیگ میں رکھدی تھی۔آپ نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا اور جب ”شہادۃ سرور انبیاء کے زیر عنوان موجودہ زمانے کے متعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئیاں پڑھیں جن میں طاغوتی طاقتوں کے عروج اور مسلمانوں کے زوال کے بعد پھر مسلمانوں کے عروج اور غلبے کی بشارتیں تھیں تو آپ کا دل اس یقین سے بھر گیا