دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 13

13 قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے زانی کو آتشک و سوز اک ہوتا ہے شادی شدہ کو تو نہیں ہوتا حالانکہ دونوں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔دوسری شہادت نفس لوامہ ہے یعنی انسان کا نفس خود ایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے دہر یہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جا نیں گے تکبر اور حسد کو اچھا نہ سمجھیں گے مگر کیوں؟ ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں۔اس لئے نا کہ ان کا دل بر امانتا ہے اور دل اسی لئے برا مانتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کر سکتا اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا (الشمس: 9) اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کر دیا ہے پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی زبر دست دلیل ہے اگر خدا نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جاوے جو دل میں آئے لوگ کیا کریں۔چوتھی دلیل چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذات باری کے متعلق معلوم ہوتی ہے یہ ہے وَانّ الی رَبَّكَ الْمُنْتَهى وَأَنَّهُ هُوَ اضْحَكَ وابكى وَأَنَّهُ هُوَ امَاتَ وَأَحْيَانِ وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى مِنْ نُّطْفَةٍ إِذَا تُحملی (النجم: ۴۳-۴۷) یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچادی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہاء اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت اور حیات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اسنے مرد و عورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسطرف متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا