دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 12
12 دلیل سوم تیسری دلیل جو قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر نا پسند کرتی ہے ماں بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا ہے۔پاخانہ پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں کے ساتھ تعلق ہے۔جھوٹ ہے یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پر ہیز کرتا ہے مگر کیوں ؟ اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں؟ وہ کیوں ماں اور بہن اور دوسری عورتوں میں کچھ فرق جانتا ہے جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے۔کیا دلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بدنما قرار دیا ہے اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟ اسکے لئے تو جھوٹ اور سچ ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے جو دل کی خوشی ہوئی کرلیا۔وہ کو نسی شریعت ہے جو اسکے جذبات پر حکومت کرتی ہے جس نے دل پر اپنا تخت رکھا ہے۔اور گو ایک دہر یہ زبان سے اسکی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اسکی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور گناہوں سے اجتناب یا اسکے اظہار سے اجتناب اسکے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جوابدہی کا خوف ہے جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اسکی بادشاہت کا انکار ہی کرتا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيمَةِ ، وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوْامَةِ (القيمة :۳،۲) یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ جزا سزا ہے ایسا نہیں بلکہ ہم ان امور کی شہادت کیلئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں ایک تو اس بات کو کہ ہر بات کیلئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے جس میں کہ اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بدل جاتا ہے اگر خدا نہیں تو جزاء وسزا کیونکرمل رہی ہے اور جو لوگ قیامت کبری کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ