دورۂ قادیان 1991ء — Page 88
88 سوا دس بجے تک آندھرا پردیش کرناٹک اور کیرالہ کی مستورات نے مسجد مبارک میں اور مالدیپ، انڈیمان ، سری لنکا اور تامل ناڈو کے مردوں نے حضور سے مسجد اقصیٰ میں اجتماعی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔۲۶ دسمبر ۱۹۹۱ء بروز جمعرات۔قادیان آج عظیم الشان اور تاریخی صد سالہ جلسہ سالا نہ قادیان کا پہلا دن ہے۔نماز فجر حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی اقتداء میں صبح چھ بجگر میں منٹ پر ادا کی گئی۔سات بجے حضور بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے۔اس موقع پر صاحبزادی فائزه صاحبہ، صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب، صاحبزادی یاسمین رحمان مونا صاحبہ اور صاحبزادی عطیہ المجیب صاحبہ اور سمیرا احمد بنت مرزا شمیم احمد صاحب مرحوم بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔آپ نے حسب معمول سب سے پہلے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کی۔اسکے بعد احاطہ خاص میں قبروں پر دعا کرنے کے بعد آپ باہر تشریف لے آئے اور بہشتی مقبرہ میں دیگر قبروں کے کتبات دیکھتے ہوئے زیر لب دعائیں کرتے رہے۔حضور نے اپنے نانا حضرت سید عبدالستار شاہ صاحب کی قبر پر دعا کی اور اسکے بعد آپ دیگر مختلف قبروں کی تختیاں دیکھتے ہوئے احاطہ بہشتی مقبرہ سے باہر تشریف لائے۔گیٹ کے باہر کثیر تعداد میں مردوزن اپنے آقا کو ایک نظر دیکھنے کے منتظر تھے اور ہاتھ ہلا ہلا کر اپنی محبت کے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔آپ نے ان سب کو السلام علیکم کہا اور ہاتھ ہلاتے ہوئے ناصر آباد کی گلی میں سے ہو کر جلسہ گاہ سے ہوتے ہوئے احمد یہ چوک کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں ایک ہندو فیملی اپنے گھر کے دروازے کے باہر ہاتھ باند ھے آپ کو ایک نظر دیکھنے کے لئے کھڑی تھی۔جو نہی آپ قریب سے گزرے تو ان سب نے اپنے مروجہ طریق پر ہاتھ باندھ کر آپ کو سلام کیا۔آپ نے بچوں اور بچوں کے والد سے ہاتھ ملایا تو منظر قابل دید تھا۔بچوں کی والدہ جو ساتھ ہی کھڑی تھی، حضور کی شفقت سے اس قدر مغلوب ہوئی کہ وفور جذبات سے اُس کی سسکیاں نکلنے لگیں۔قادیان کے غیر مسلموں سے حضور کی محبت و شفقت کے