دورۂ قادیان 1991ء — Page 69
69 ہوں۔آپ خود بھی یہ نصیحت ذہن نشین کر لیں لیکن آنے والوں کو بھی بتائیں کہ اپنے سامانوں کی حفاظت کریں۔باہر سے کثرت سے لوگ آنے والے ہیں۔پس جہاں جہاں جس قیام گاہ میں آپ ٹھہرتے ہیں کوئی قیامگاہ ایسی نہیں ہونی چاہئے جہاں آپ اپنا امیر نہ بنائیں۔اگر یہ نظام جلسہ سالانہ قادیان کے منتظمین نے جاری فرما دیا ہے تو اس نظام کے مطابق کام کریں۔اگر نہیں ہے تو یا درکھیں کہ ہر کمرہ کا ایک امیر ہونا ضروری ہے۔اس کا نظام کے تابع انتخاب کر کے یا مقرر کروا کے پھر اندرونی انتظامات کو مکمل کریں۔کوئی بیمار ہوتا ہے تو وہ کیا کرے؟ اس کا ان سب کو علم ہونا چاہئے۔کوئی اور ایمر جنسی ہو جاتی ہے، حادثہ ہو جاتا ہے تو کیا ہونا چاہئے؟ یہ پھر آپ کی قیامگاہ کے امیر کا کام ہے کہ اپنے ساتھ نائبین بنائے۔سب ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے وقت پر آپ کو مطلع کرے بلکہ پہلے سے بتا ر کھے کہ یہ بات ہو تو یہ ہونا چاہئے۔فلاں بات ہو تو یہ ہونا چاہئے۔کوئی کسی قسم کی شرارت کرتا ہے تو اس کا یہ توڑ ہے۔اگر پولیس کے پاس جانا ہے تو کس طرح جاتا ہے۔کس نظام کی معرفت اور کس وسیلے سے پہنچنا ہے۔یہ ساری باتیں ایسی تفصیلی ہیں جو بعض دفعہ منتظمین سمجھتے ہیں کہ سب کے علم میں ہی ہیں۔سب کے سب جانتے ہیں کیونکہ خودان کے علم میں ہیں حالانکہ بہت سے بھولے بھالے باہر سے آنیوالے ایسے ہیں کہ ان کو کوئی پتا نہیں ہوتا کہ کیا کرنا چاہئے۔ان کی تربیت کرنی ضروری ہے۔پس جماعت کے ہر نظام میں تربیت کا ایک از خود رفته نظام جاری ہو جایا کرتا ہے اور جلسے کی برکتوں میں سے ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس جاری وساری نظام سے بہت سے لوگ فیض پاتے ہیں اور واپس جا کر بہتر زندگی گزارنے کی اہلیت حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔پس اس بات کو یا درکھئے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے احسانات میں سے ایک یہ بھی احسان ہے کہ امارت کے بغیر کی زندگی کا کوئی تصور بھی مسلمان کے لئے باقی نہیں رہتا اسے لازماً نظام کی کڑی کے طور پر نظام کے سلسلے سے مربوط ہو کر رہنا پڑے گا اور اس کا یہ طریق ہمیں سمجھایا کہ اگر تم سفر پر جاتے ہو، کہیں بھی ہو، بغیر امارت کے نہیں رہنا چاہئے۔یہی امارت ہے جس کا سلیقہ اگر مومنوں کو عطا ہو جائے تو اس سے صالح امامت رونما ہوتی ہے اور خلافت کی حفاظت کے لئے بھی اس نظام کا