دورۂ قادیان 1991ء — Page 68
68 انتظامات کا آغاز بہت پہلے سے ہو چکا ہے۔انگلستان میں آفتاب احمد خان صاحب جو یو نائیٹڈ کنگڈم (United Kingdom) کے امیر ہیں۔وہ خصوصیت سے اس معاملہ میں میری مدد کرتے رہے ہیں اور بہت ہی حکمت، ذہانت اور مسلسل بڑی محنت کے ساتھ اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے جو کچھ صلاحیتیں ان کو عطا ہوئی تھیں وہ خرچ کی ہیں۔اور ان کے علاوہ بہت سے ہمارے انگلستان میں ساتھی اور پھر قادیان میں بہت سے درویش، پھر ربوہ سے آنے والے سلسلہ کے خدام کثرت سے ایسے نام ہیں جو ذہن میں دعا کی غرض سے عمومی طور پر گھوم جاتے ہیں لیکن اس موقع پر تفصیل سے ان ناموں کا بیان ممکن نہیں۔اس لئے میں آپ سے یہی درخواست کرتا ہوں کہ ان ایام میں تمام کارکنوں کو جنہوں نے کسی بھی رنگ میں جلسے کی خدمات میں حصہ لیا ہے یا آئندہ لیں گے ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھا کریں۔یہ بھی یا درکھیں کہ جلسہ کے ان ایام میں بہت سے مختلف قسم کے لوگ یہاں آئیں گے۔اکثر خدا تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کے ساتھ ، وفا اور محبت سے مجبور ہوکر یہاں پہنچیں گے ، کچھ شریر بھی آئیں گے ، کچھ تنگ نظر بھی آئیں گے، کچھ بدا را دے لیکر بھی آئیں گے اسلئے جہاں ان پاک نیک لوگوں کے لئے ہم پر کچھ فرائض ہیں جو خدا کے نام کی خاطر اور خدا کے دین اور خدا کے پیاروں کی محبت کی خاطر یہاں پہنچے ہیں یا پہنچتے رہے ہیں ، جہاں ان کے حقوق ادا کرنے کی بڑی ذمہ داریاں ادا ہوتی ہیں وہاں انکو غیروں کے اثر سے بچانے کی بھی ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کے لئے آپ سب کو نگران رہنا چاہئے۔ظاہری سیکیورٹی وغیرہ کے جو انتظامات ہیں وہ تو محض بہانہ ہوتے ہیں۔اصل تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے لیکن خدا تعالیٰ کا فضل جن جن مشکلوں میں ڈھلتا ہے، جن جن وسیلوں میں سے گزر کے آگے بڑھتا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر مومن صاحب فراست ہوتا ہے۔ہر مومن کو بیدار مغز ہونا چاہئے۔جہاں اس کو کوئی رخنہ دکھائی دے وہاں کوشش ہونی چاہئے کہ وہ رخنہ بند ہو جائے پیشتر اس کے کہ اس کے نتیجہ میں کوئی فساد ابل پڑے۔اسی طرح اپنی چیزوں کی بھی حفاظت ضروری ہے۔مجھے تجربہ ہے کہ جلسہ کے موقع پر جماعت مومنین کو بھولا بھالا سمجھ کرکئی چور اچکے بھی آجاتے ہیں اور پھر لوگوں کو اس سے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔اس لئے میں آپ کو نصیحت کر رہا