دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 56 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 56

56 کی زیارت نصیب ہو۔کاش ہم اس مقدس بستی کی فضا میں سانس لے سکیں جہاں میرے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ملے کے کامل غلام مسیح موعود علیہ السلام سانس لیا کرتے تھے۔جب میں یہاں آیا اور میں نے اس بات کو سوچا کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ایسی فضا میں دوبارہ سانس لیں گے۔تو مجھے بچپن میں پڑھا ہوا سائنس کا ایک سبق یاد آ گیا۔جس میں یہ بتانے کے لئے کہ جتنے ایک انسان کے سانس میں ایٹم (Atoms) ہوتے ہیں ان کی تعداد کتنی ہے۔وہ مثال دیا کرتے تھے کہ سیزر نے جو آخری دفعہ مرتے وقت ایک سانس لیا تھا اس سانس میں اتنے ایٹم تھے کہ اگر وہ برابر ساری کائنات میں ،ساری فضا میں تحلیل ہو جائیں اور برابر فاصلے پر چلے جائیں تو ہر انسان جو سانس لیتا ہے اس کے ایک سانس میں سیزر کے سانس کا ایک ایٹم بھی ہوگا۔تو جب میں نے سوچا تو مجھے خیال آیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں لکھو کھبا مرتبہ سانس لئے ، یہ فضا تو آپ کے سانسوں کے ان اجزاء سے بھری پڑی ہے اور ہر سانس میں خدا جانے کتنے ہزاروں ، لاکھوں،حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سانس کے ایٹم ہوں گے جو آج ہم بھی Inhale کرتے ہیں۔یہ سوچتے ہوئے میرا خیال حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ کی طرف منتقل ہوا تو مجھے خیال آیا کہ زمین کا سارا جو اُس ہوا سے بھرا پڑا ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی علیے اپنی سانسوں میں کھینچا کرتے تھے اور نکالا کرتے تھے۔جب میں یہاں تک پہنچا تو اس ظاہری خوشی میں کچھ کدورت پیدا ہوگئی کیونکہ میں نے سوچا کہ انہی میں وہ سانس بھی ہیں جو دنیا کے بہت سے بد نصیب بھی تو لیا کرتے تھے اور آج بھی لیتے ہیں۔ایسے بدنصیب جنہوں نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زمانہ پایا اور سارا زمانہ ان سانسوں کو نور رسالت کے بجھانے کیلئے استعمال کیا۔اس کو ہوا دے کر فروغ کر دینے کیلئے استعمال نہیں کیا۔تو یہ ظاہری اور جذباتی چیزیں مجھے بے حقیقت دکھائی دینے لگیں۔وہ جذباتی لطف جو یہاں آکر آیا تھا۔اس میں ایک اور پیغام بھی مجھے ملا کہ حقیقت میں ان سانسوں کی جب تک ہم قدر کرنا نہ جانیں جو محمد مصطفیٰ کے سانس تھے یا آپ کے غلام کامل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سانس تھے۔اس وقت تک ہم ان سانسوں سے برکت پانے کے اہل نہیں ہو سکتے کیونکہ مدینہ کی فضا بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سانسوں سے بھری پڑی تھی۔وہ کتنے بد نصیب تھے جوان سانسوں کو لیتے تھے لیکن ان