دورۂ قادیان 1991ء — Page 55
55 خطبہ جمعہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: ’ آج کا دن ایک بہت ہی اہمیت کا تاریخی دن ہے۔آج ۴۴ سال کے لمبے اور بڑے تلخ التواء کے بعد آخر اللہ تعالیٰ نے خلیفہ اسیح کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ آج کا جمعہ قادیان میں احباب جماعت کے ساتھ ادا کر سکے۔قادیان کے درویشوں کے لئے بھی اس میں بہت بڑی خوشخبری مضمر ہے۔معلوم ہوتا ہے خدا کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہجر کے دن چھوٹے ہوجائیں گے اور وصل کے دن قریب آجائیں گے اور ان سب آنے والوں کے لئے بھی اس میں بہت خوشخبری ہے جو دور دور سے تکلیفیں اٹھا کر اور بہت سے اخراجات کا بوجھ اٹھا کر یہاں پہنچے تا کہ ان کے دلوں کے بوجھ ہلکے ہوسکیں۔ان کو اللہ تعالیٰ نے سعادت بخشی اور توفیق عطا فرمائی کہ نہ صرف اس تاریخی جلسے میں جو سوسال کے بعد (لازماً سوسالہ جلسہ سو سال کے بعد ہی منعقد ہوتا ہے ) مراد یہ تھی کہ جو سو سال کے بعد سوسالہ جلسہ منعقد ہوتا ہے اس میں شامل ہو سکے ہیں۔یہ ایک ایسی سعادت ہے جو سو سال میں ایک ہی دفعہ نصیب ہو سکتی ہے اور اس پہلو سے آج کی نسل کے لئے یہ بہت ہی غیر معمولی سعادت کا لمحہ ہے۔لیکن دوسری سعادت جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے، یہ بھی بہت ہی بڑی اور بابرکت اور لائق صد شکر سعادت ہے۔خدا تعالیٰ نے چوالیس سال کے انقطاع کے بعد خلیفہ اسیح کو آج قادیان میں جمعہ پڑھانے کی سعادت عطا فرمائی۔جو لوگ پیچھے رہ گئے اور جو آج ہمارے ساتھ شامل نہیں خصوصاً وہ لوگ جو اسیران راہ مولیٰ ہیں ، جو ایسے مجبور ہیں، ایسے بے بس ہیں کہ خواہش کے علاوہ اگر ان میں ویسے دنیاوی لحاظ سے استطاعت ہوتی بھی تو یہاں نہ آ سکتے۔ان سب کو خصوصیت سے نہ صرف آج اپنی دعاؤں میں یا درکھیں بلکہ اس دوران یعنی جلسے کے ایام اور جلسے کے شب وروز میں مسلسل جب بھی آپ کو توفیق ملے آپ ان سب غیر حاضرین کو اپنی دعاؤں میں یا در کھتے رہیں۔میہ وہ دن ہیں کہ جب سے ہم یہاں آئے ہیں خواب سا محسوس ہو رہا ہے یوں لگتا ہے جیسے خواب دیکھ رہے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ یہ خواب نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر ہے۔ایسے خوابوں کی تعبیر جو مڈ توں،سالہاسال ہم دیکھتے رہے اور یہ تمنادل میں کلبلاتی رہی ، بلبلاتی رہی کہ کاش ہمیں قادیان