دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 28 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 28

28 دے گھیرے ساڈے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔اس خدا دے گھر وچ تاں کوئی جات پات نہیں ہے۔۔۔میرے من وچ آپ جی نوں ملن واسطے ہر ویلے انتشاہ (شوق ) بنار ہندا ہے۔۔۔جے کر واہگور وخدا نے کرم کیتی شاید تہاڈے پاس آکے آپ جی دے درشن کر سکاں۔آپ جی دا داس چمن سنگھ ریلوے روڈ قا دیان ۹۲-۲-۲۹ قادیان کے ایک غیر مسلم دوست ڈاکٹر دیوان چند بھگت صاحب سوشل ورکر قادیان نے مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر اعلی قادیان کے نام تحریر کرتے ہوئے لکھا: میں ہندوستان کے بٹوارے کے بعد سے اب تک قادیان میں ہی رہ رہا ہوں اور میرے جماعت احمدیہ کے بہت سے لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔۔۔اس صد سالہ جلسہ میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے خطبات سن کر دل کو بہت سکون ملا۔آپ کا ہر لفظ محبت کا پیغام تھا، امن کا پیغام تھا، روحانیت کا پیغام تھا، انسانیت کا پیغام تھا، آپ سچ مچ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں۔آپ کو مل کر دنیا کی ہر تھکن دور ہو گئی۔ہر ایک کے لئے آپ کے جذبات ایک سے ہیں۔خواہ وہ ہندو ہو یا سکھ یا عیسائی ، آپ سب سے ایک جیسی محبت کرتے ہیں۔اسی محبت کا نشہ ہے جو ہر احمدی ایک دوسرے کے ساتھ کرتا ہے۔خواہ وہ کسی قوم وملت کا ہو۔جہاں خلیفہ کی آمد پر ہر قادیان کے واسی کو خوشی اور دلی سکون وسرور حاصل ہوا اور روحانی غذا ملی، اس کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں کو اقتصادی فائدہ بھی ہوا اور ہندوستان کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ آج ہندوستان کے بہت سے صوبوں میں نفرتوں کی آگ سے بہت سے گھر جل رہے ہیں۔اس میں مرزا صاحب کا امن کا پیغام بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔احمد یہ جماعت کا ہر فرد بھی اس کوشش میں لگا ہے کہ تمام عالم میں انسانی دوستی قائم ہو اور ہمارا پیارا ہندوستان امن کا گہوارہ بن جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کا پیغام سن کر بہت سے لوگوں کے دلوں میں نیک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔کیونکہ پیار کا نام ہی پر ماتما ہے اور یہ ہی کچی