دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 25 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 25

25 تھے۔خاکسار قریب ہوا تو معلوم ہوا کہ اس بات پر جھگڑا ہے کہ آج حضور کو میں نے اتنی قریب سے دیکھا ہے اور کوئی کہہ رہا تھا کہ نہیں میں نے زیادہ قریب سے دیکھا ہے۔تیسرا کہتا تھا کہ میں نے دیکھا ہے۔خاکسار یہ عقیدت دیکھ کر حیران رہ گیا۔پھر ایک اور عجیب نظارہ دیکھا جس دن حضور عورتوں کے جلسہ گاہ میں خطاب فرمارہے تھے، خاکسار باہر ڈیوٹی پر کھڑا تھا کہ دو بوڑھے سکھ میاں بیوی اُدھر آئے اور قنات کی طرف جانے لگے۔خاکسار نے روکا کہ ادھر نہیں جانا تو کہنے لگے : ”حضور ” کا دیدار کرنا ہے۔میں نے کہا کہ ایک طرف کھڑے ہوجائیں حضور ” تقریر کر کے آئیں گے تو آپ دیکھ لیں۔وہ کہنے لگے کب آئیں گے۔میں نے کہا ایک گھنٹہ بعد تو وہ کہنے لگا پانچ منٹ بعد بس چلی جائے گی۔ہم بہت دور کے گاؤں سے آئے ہیں اور آج آئے ہوئے تیسرا دن ہے لیکن حضور کو نہیں دیکھ سکے آج نہیں دیکھ سکے تو کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔بڑی منت کرنے لگے اور اس طرح رونے لگے جس طرح بچہ روتا ہے اور پھر سکھ بیوی نے تو آگے بڑھ کر دیکھ لیا اور اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔وہ کبھی دور سے حضور حضور کی طرف دیکھتی ہاتھ کپڑوں پر ملتی کبھی ہاتھ حضور کی طرف کر کے پھر اُن کو چومتی۔غرض خوشی کا عجیب اظہار تھا۔پھر اس پچھتر سالہ بوڑھے سکھ کی نظر دُور سے حضور پر پڑ گئی۔بہت فاصلہ تھا۔اس نے ہاتھ باندھے جسم پر ہاتھوں کو ملا اور خوشی سے بے قرار ہوا جاتا تھا۔عجیب حالت تھی اس کی کہنے لگا حضور کا دیدار ہو گیا ایک تمنا پوری ہوگئی۔اب ہم مطمئن جار ہے 66 ہیں ورنہ ساری زندگی حسرت رہتی۔واہ! کیا شان ہے اللہ کے بندوں کی۔“ محترم مولانا محمد انعام غوری صاحب ( حال ناظر اعلی قادیان ) آپ کی ڈیوٹی شعبہ ملاقات میں تھی ، لکھتے ہیں:۔" حضور سے ملاقات کے بارہ میں لوگوں کے تاثرات نہایت دلچسپ تھے۔جب کسی کو مصافحہ کا موقع نصیب ہو جاتا تو اُسکی حالت قابلِ دید