دورۂ قادیان 1991ء — Page 248
248 دارالذکر سے مہمانوں کو لے جاتے ، انہیں رہائش مہیا کرتے اور صبح حسب پروگرام ناشتہ کے بعد انہیں لا ہور کے ریلوے اسٹیشن پر الوداع کرنے جاتے اس سارے کام میں جماعت احمد یہ لا ہور نے خاص طور پر ضیافت اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا اور بیسیوں گھروں کو اس لت ہی خدمت کی توفیق ملی۔قادیان سے واپسی ۲۹؍ دسمبر کو قادیان سے واپسی شروع ہوگئی تو واپسی پر بھی تمام مہمانوں کو بحفاظت واپس پہنچانے کے لئے خدام کی خاطر خواہ تعداد میں ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔اس میں مختلف شعبہ جات بنائے گئے تھے۔چنانچہ تمام انتظام انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سرانجام پایا۔ٹرانسپورٹ کمپنی اس کی نگرانی مکرم لعل حسین صاحب کے ذمہ تھی جو کہ بسیں بک کروا کر اسٹیشن پر لے آتے اور مختلف اضلاع کے مہمانوں کو ان کے سامان سمیت بسوں میں سوار کرواتے اور اس طرح یہ الجھا ہوا اور مشکل کام بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے۔اس کام میں مجلس گلشن راوی کے ۶۰ خدام مختلف اوقات میں ڈیوٹی دیتے رہے۔اس کے علاوہ مجلس بھائی گیٹ ، دھلی گیٹ اور مختلف مجالس کے خدام بھی ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔اس شعبہ میں مختلف اوقات میں ۱۰۰ سے لے کر ۱۳۰ تک خدام نے ڈیوٹی دی۔واپسی پر بھی جو مہمان دارالذکر میں قیام کرنا چاہتے ان کو دارالذکر پہنچا دیا جاتا۔ریلوے اسٹیشن پر واپسی پر بھی چائے وغیرہ کا انتظام کیا گیا۔قادیان روانگی کے وقت سیکیورٹی وغیرہ کے پیش نظر ایک مرتبہ رات کے وقت گاڑی کو چیک کیا جاتا اور دوسری مرتبہ صبح مہمانوں کے سوار ہونے سے پہلے ہی ساری ٹرین کی نگرانی کی جاتی۔اور واپسی پر بھی ٹرین کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا۔اس کام میں ۱۵ تا ۲۰ خدام ڈیوٹی ادا کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود ال کے مہمانوں کی خدمت کرنے والے تمام احباب جماعت کو بہترین جزا عطا فرمائے اور اس جذ بہ خدمت و مہمان نوازی کو ہمیشہ قائم رکھے۔آمین۔