دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 163 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 163

163 از راہ ظلم سکھر جیل میں پابند سلاسل تھے۔یہ خبر جب حضور کی خدمت میں پیش کی گئی تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا جیسے ایک دیرینہ آرزو پوری ہو گئی ہو ، جیسے کوئی متاع گمشدہ مل گئی ہو۔الحمد للہ ثم احمد للہ۔اس خبر نے پیارے آقا کے چہرے پر خوشی اور حمد کا نور بکھیر دیا۔حضور نے حمد و مسرت کے ملے جلے جذبات میں بتایا: ”قادیان میں اس جمعہ یعنی Friday The 10th کو میں نے خاص طور پر ان کی اعجازی رستگاری کیلئے بارگاہ رب العزت میں التجا کی تھی۔الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ نے اس دعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور الہام Friday The 10th کی چمکار پر تصدیق کی ایک اور مہر ثبت کر دی۔الحمد للہ۔حضرت خلیفتہ اسی پر اسیران راہ مولیٰ کے دکھوں اور تکالیف کا مسلسل ایک گہرا اثر تھا جس کو آپ نے قلب وروح سے نکلی ہوئی ایک نظم کے قالب میں ڈھال کر اس طرح قادر مطلق خدا کے صدا ہے حضور پیش کیا: یارب یہ گدا تیرے ہی در کا ہے سوالی جو دان ملا تیری ہی چوکھٹ سے ملا ہے گشته اسیران ره مولا کی خاطر مدت سے فقیر ایک دعا مانگ رہا ہے جس رہ میں وہ کھوئے گئے اُس رہ پہ گدا ایک کشکول لئے چلتا ہے لب خیرات کر اب ان کی رہائی میرے آقا کشکول میں بھردے جو مرے دل میں بھرا ہے میں تجھ سے نہ مانگوں تو نہ مانگوں گا کسی سے میں تیرا ہوں تو میرا خدا میرا خدا ہے حضور کی دردبھری دعائیں جو قوت تکوین سے معمور تھیں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر عالم علوی وسفلی میں تصرف کیا اور نتیجہ کا راسیرانِ راہ مولی سکھر کی اعجازی رہائی کی صورت میں شہود پذیر ہوئیں۔اسیرانِ راہ مولیٰ سکھر مکرم پروفیسر ناصراحمد قریشی صاحب مرحوم اور مکرم رفیع احمد قریشی صاحب ۱۹۸۴ء سے جیل میں بند تھے۔انہیں آمر وقت کی انتہائی بدنیتی کی بناء پر محض ایک سفا کا نہ فیصلہ کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن بعد میں یہ سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی تھی۔جنوری ۱۹۹۲ء یعنی تقریباً آٹھ سال بعد پہلی مرتبہ سندھ ہائی کورٹ میں ان کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔مکرم سید علی احمد طارق صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس