دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 143 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 143

143 ہوئے دن بدن ہر بدی کے بدلے اپنی ذات میں حسن پیدا کرتے چلے جائیں یہانتک کہ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران : ۱۹۴) کا وقت آپہنچے۔ایسی حالت میں آپ اپنے رب کے حضور لوٹ رہے ہوں کہ خدا کی نظر آپ پر اس حالت میں پڑ رہی ہو کہ خدا آپ کو ابرار کے زمرے میں شمار کر رہا ہو۔پس یہ وہ صلاحیتیں ہیں جن سے آپ آشنا تو ہیں لیکن ان کی اہمیت ابھی دل میں پوری طرح اجاگر نہیں ہوئی۔پوری طرح وہ اہمیت دل میں بیدار نہیں ہوئی۔آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے ساتھ انقلاب کے تار وابستہ ہیں۔آپ کے دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ آج قوموں کی تقدیر وابستہ ہو چکی ہے۔آپ اٹھیں گے تو دنیا جاگ اٹھے گی۔آپ سوئیں گے تو سارا عالم سو جائے گا۔اس لئے آج آپ دنیا کا دل ہیں۔آج آپ دنیا کا دماغ ہیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے وہ سیادت نصیب فرمائی ہے جس کے نتیجہ میں تمام دنیا کو سعادتیں نصیب ہوں گی۔پس اس پہلو سے اپنے مقام اور مرتبے کو سمجھیں اور نئے عزم کے ساتھ ، نئے ولولوں کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام اپنے ماحول اپنے گردو پیش میں دینا شروع کریں۔بظاہر یہ ایک بہت ہی دور کی بات دکھائی دیتی ہے کہ اتنے تھوڑے سے احمدی ، جو اس وقت پاکستان میں بھی اپنی ظاہری طور پر معقول تعداد کے باوجود پاکستان کے باقی باشندوں کے مقابل پر اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے کہ اپنے بنیادی حقوق ان سے حاصل کر سکیں۔ہندوستان کے احمدیوں کا حال مقابلہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔اتنی معمولی تعداد ہے کہ اس تعداد کو دیکھتے ہوئے دنیا کے حساب سے اربع لگانے والا یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس قوم کو کبھی غلبہ نصیب ہو سکتا ہے لیکن قرآن کریم کا جو وعدہ ہے وہ بہر حال پورا ہوگا۔وہ صفات حسنہ آپ کو عطا ہو چکی ہیں۔ان صفات سے کام لینا اور باشعور طور پر یہ یقین رکھنا کہ آپ ہی کے ذریعہ دنیا میں انقلاب ہوگا۔یہ سب سے پہلا قدم ہے جو انقلاب کی جانب آپ اٹھا سکتے ہیں۔یہ قدم آپ اٹھا ئیں تو خدا کی تقدیر دس قدم آپ کی طرف آئے گی۔آپ چل کر خدا کی تقدیر کی طرف آگے بڑھیں تو خدا کی تقدیر دوڑ کر آپ کی طرف آئے گی۔پس دنیا کا اربع اپنی جگہ درست، لیکن روحانی انقلابات کے لئے جوار بع قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے، جس پر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے روشنی ڈالی ہے ، وہ یہی بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ جب خدا تعالیٰ کی تقدیر شامل