دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 130 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 130

130 اور پاکستان کے باشندوں کی تقدیر بدل جائے۔جب تک یہ ملاں پاکستان کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے، اس درخت کو کبھی پھل نہیں لگ سکتے۔ایک بے کار درخت بن چکا ہے جس پر کڑوی چیز میں تو اُگ سکتی ہیں مگر ثمرات حسنہ اس کو عطا نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کی جڑیں گندی ہوگئی ہیں۔جب تک اہل پاکستان اپنی جڑوں سے ملائیت کے جراثیم نہ نکالیں اور محمد مصطفی ﷺ کے مکارم الاخلاق کو وہاں قائم نہ کریں ، اس وقت تک اس ملک کا بھی کچھ نہیں بن سکتا۔اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سنے اور دنیا میں عالمگیر تبدیلیاں برپا کرنے کی ہم عاجزوں اور غریب بندوں کو تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔“ کشمیری احمدیوں کے اخلاص کا تذکرہ 66 خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا:۔”میں نے اہل کشمیر کا بھی خصوصیت سے ذکر کرنا تھا لیکن اس وقت خیالات دوسری طرف منتقل ہوتے چلے گئے تو ان کا ذکر رہ گیا۔جہاں تک اخلاص اور جوش کا تعلق ہے کشمیر سے آنے والے ہزار ہا احمدیوں نے جس اخلاص اور جوش کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی ایک قابل دید منظر تھا ، ایسا جو ہمیشہ کے لئے یادوں میں پیوست ہو جاتا ہے اور وہاں بھی غربت ہے لیکن بعض دوسرے علاقوں کی نسبت کم ہے۔لیکن جس طرح علاقے کا امن اٹھ چکا ہے وہاں سے ان حالات میں ان کا جوق در جوق آنا ایک بہت بڑی قربانی کا تقاضا کرتا تھا جو انہوں نے پیش کی۔شروع میں مجھے یہ بتایا گیا کہ شاید ہزار کی تعداد میں کشمیری آجائیں اور اس پر بھی خیال یہ تھا کہ ہزار تو بہت زیادہ ہیں۔شاید خوش فہمی کا اندازہ ہے مگر وہ جو کشمیر کے جذبے کو اور اخلاص کو جانتے تھے وہ مجھے یقین دلا رہے تھے کہ پندرہ سو دو ہزار اس سے بھی زیادہ کی توقع رکھیں۔چنانچہ آخر پر مجھے یہ بتایا گیا کہ اللہ کے فضل سے کشمیر سے آنے والے احمدیوں کی تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ چکی تھی۔خواتین بھی بڑی کثرت سے آئیں ، مرد بھی ، بچے بھی اور بہت ہی محبت اور پیار سے اور بڑی مستعدی سے انہوں نے اپنے اپنے فرائض ادا کئے اور اب بھی ان کی کچھ تعداد ابھی پیچھے ٹھہری ہوئی ہے۔کشمیر کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کشمیر کی جماعت کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتا ہوں۔اللہ اس خطے کو بھی سچائی اور انصاف کا امن نصیب کرے۔آمین۔“