دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 117 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 117

117 اچانک دن رات کے چکر کو کسی نے لٹو کی طرح گھما دیا ہے اور دن گھنٹوں میں گزرنے لگے اور جب ہوش آئی تو جلسہ پیچھے رہ چکا تھا اور تمام ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ادا ہو چکی تھیں۔اس سے پہلے بھی مجھے گلے کی تکلیف تھی جو یہاں آنے کے بعد غالبا کسی گھی کی الرجی سے شروع ہوئی اور مجھے ڈر تھا کہ یہ کہیں جلسہ کی ذمہ داریوں میں حائل نہ ہو جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب احسان ہے کہ جلسہ کے آغاز پر یہ تکلیف بالکل غائب ہوگئی اور پوری طرح مجھے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق ملی۔جلسہ کے بعد یہ تکلیف پھر از سر نو واپس آئی تو مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنے عاجز بندوں سے اعجازی سلوک فرماتا ہے لیکن بشریت کے تقاضوں سے وہ بالا نہیں ہوتے۔پس وہ اعجازی دور تھا جو گزر گیا۔اب میرے بشری تقاضوں کی بیماری ہے جس نے مجھے آپکڑا ہے لیکن اللہ کے فضل سے طبیعت پہلے کی نسبت بہتر ہے۔کل مجھے انشاء اللہ دہلی جانا ہوگا۔پرسوں وہاں ایک اہم بین الاقوامی مجلس سے خطاب ہے۔احباب جماعت سے گزارش ہے کہ وہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اس اہم ذمہ داری کو بھی اسی طرح اپنے خاص فضل کے ساتھ عمدگی کے ساتھ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے ، جیسے پہلے اس نے عمدگی سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور ایسی باتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے نتیجہ میں دنیا کو کچھ فائدہ پہنچے۔محض منہ کی باتیں نہ ہوں بلکہ ایسی باتیں ہوں جو دل سے نکلیں اور دل پر اثر کرنے والی ہوں۔جن کے نتیجہ میں خیالات میں بھی تبدیلیاں ہوں اور دلوں میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوں کیونکہ یہ دنیا جس دور میں سے گزر رہی ہے اس میں سب فتور خیالات اور دلوں کا فتور ہے۔امنِ عالم کی سرسری سطحی باتیں کرنا ایک فیشن سا بن چکا ہے لیکن فی الحقیقت بہت کم ہیں جو مضمون کی تہہ میں ڈوب کر حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے امن کے خواہاں ہیں اور امن کو حاصل کرنے کے لئے وہ کسی قربانی کے لئے تیار ہیں۔چونکہ میرا مضمون امن عالم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے میں سب احباب جماعت سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ ایسے رنگ میں اس مضمون کو ادا کرنے کی توفیق ملے کہ وہ لوگ جو عموما سطحی باتوں کے عادی ہیں ان کی نظر بھی گہری اترے ، مسائل کی تہ تک پہنچیں اور اپنے ماحول اور گردوپیش میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ہم ایک غفلت کی حالت میں سے گزر رہے ہیں