دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 116 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 116

116 ۳/ جنوری ۱۹۹۲ء بروز جمعہ قادیان حضرت خدیہ اسیح الرابع کی اقتداء میں نماز فجر جیہ بیچ کر میں منٹ پر مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئی۔سات بجے کے قریب حسب معمول حضور دعا کیلئے بہشتی مقبرہ تشریف لے گئے۔آپ کی صاحبزادیاں اور صاحبزادہ مرزا لقمان احمد صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک پر اور اسکے بعد حضرت خلیفۃ المسيح الاول الاول اور اپنی والدہ محترمہ سیدہ مریم بیگم کی قبروں پر دعا کی۔اسکے بعد آپ تین اور قبروں پر بھی گئے اور دعا کی۔بہشتی مقبرہ میں دعا کے بعد آپ گزشتہ چند روز کی طرح ایوانِ خدمت کے سامنے سے گزرے۔راستہ میں مختلف لوگوں کو مصافحے کی سعادت بخشتے ہوئے احمد یہ چوک سے گزر کر دار ا مسیح میں واپس تشریف لائے۔اس سال کی پہلی نماز جمعہ پڑھانے کیلئے حضور انور مسجد اقصیٰ میں ڈیڑھ بجے تشریف لائے۔اس تاریخی نماز جمعہ کے لئے مکرم رشید الدین پاشا صاحب نے اذان دی۔خطبہ جمعہ کے بعد جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔خطبہ جمعہ کا مکمل متن پیش ہے۔خطبه جمعه فرموده ۳ /جنوری ۱۹۹۲ء ( بمقام مسجد اقصی قادیان) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔وو جلسہ سالانہ جو سو سالہ جلسہ سالا نہ ہونے کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا ، خدا کے فضل سے بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا اور اس جلسہ کے بعد آج پہلا جمعہ ہے جو ہمیں مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے اور سال کا بھی یہ پہلا جمعہ ہے۔اس لحاظ سے سب سے پہلے میں تمام جماعت ہائے احمد یہ عالمگیر کو صد سالہ جلسہ سالانہ کے بخیر وخوبی گزرنے پر اور نئے سال کے آغاز پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، اپنی طرف سے بھی اور قادیان کے درویشوں اور باشندگان کی طرف سے بھی اور ان سب مہمانوں کی طرف سے بھی جو ابھی تک یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔جلسہ سالانہ جب قریب آیا تو دن رات کی رفتار میں تیزی آنی شروع ہوئی اور یوں لگتا تھا کہ