دورۂ قادیان 1991ء — Page 110
110 اس تجویز پر مزید مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔۳۔اس تجویز پر کہ انسپکٹران مال کی طرح انسپکٹران تربیت کے بھی جماعتوں میں دورے ہونے چاہئیں ، حضور نے فرمایا کہ ہندوستان کی جماعتوں کے فاصلوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے دورے نہ صرف بہت زیادہ اخراجات کے متقاضی ہیں بلکہ نتائج کے لحاظ سے بھی زیادہ سود مند نہ ہوں گے۔اصل نظام جس پر ذمہ داری ہے وہ مقامی جماعتوں کا نظام ہے۔پس سیکرٹریان مال کے علاوہ دیگر شعبہ جات اور ان کے سیکر ٹریان کو بھی مستعد کرنیکی ضرورت ہے۔البتہ وقتاً فوقتاً ناظر تعلیم و تربیت و دیگر ناظر ان کو جماعتوں کے دورے کرنے اور تربیتی امور کا جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔اول الذکر دو تجاویز پر مشورہ کے لئے حضور نے نمائندگان شورای سے رائے حاصل فرمانے کے بعد دوسب کمیٹیوں کی تشکیل فرمائی۔تجویز نمبر ا تعلیمی بلیتی اور اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں ۳۴ افراد پر مشتمل سب کمیٹی کی منظوری عطا فرمائی۔مکرم محمد شفیع اللہ صاحب امیر صوبہ کرناٹک کو اس سب کمیٹی کا صدر اور مکرم منیر احمد صاحب حافظ آبادی ناظر امور عامہ کو سیکرٹری مقرر فرمایا۔تجویز نمبر۲۔قادیان میں اعلیٰ درجے کے پرنٹنگ پریس کے قیام اور لٹریچر کی طباعت تقسیم کا جائزہ لینے کے لئے سب کمیٹی کی منظوری عطا فرمائی۔مکرم سید فضل احمد صاحب پٹنہ کو اس سب کمیٹی کا صدر اور مکرم سید تنویر احمد صاحب ناظر نشر واشاعت کو سیکرٹری مقررفرمایا۔سب کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد سوا ایک بجے دو پہر شوری کے پہلے اجلاس کی کاروائی اختتام پذیر ہوئی۔ہر دوسب کمیٹیوں کے اجلاسات مسجد اقصیٰ میں ۲:۳۰ تا ۴:۳۰ بجے سہ پہر ہوئے جس میں متعلقہ تجاویز پر مشورہ کے بعد ر پورٹس تیار کی گئیں۔مجلس شوری کا دوسرا اور اختتامی اجلاس پونے پانچ بجے شام سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی تشریف آوری پر مسجد اقصیٰ میں