مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 62
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 62 معین الفاظ میں منضبط ہے اور الفاظ کی حد تک وہ ہے بھی بالکل واضح۔خود ان کے اپنے دعوی کے بموجب وہ نظریہ یا موقف یہ ہے کہ خدا کے وجود کی تین ہستیوں یا اقانیم میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی علیحدہ شخصیت۔سو یہ صرف ”تین میں ایک “ والی بات نہیں ہے بلکہ یہ عقیدہ ایک شخصیت میں تین شخصیتوں کی موجودگی پر دلالت کرتا ہے۔اس لحاظ سے یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ مسیح نے جب موت اور اس کے جملہ دور رس نتائج و عواقب کا سامنا کیا تھا تو اس کے اس پورے فعل میں روح القدس بھی برابر کا شریک رہا ہو گا کیونکہ مسیح نے جو قربانی دی اس میں تثلیث کے ایک اقنوم کی حیثیت سے روح القدس کی برابر کی شرکت ناگزیر تھی۔مزید بر آں یہ بھی لازم آتا ہے کہ مسیح اور ”باپ خدا کی ہمراہی میں اس نے بھی دوزخ کا عذاب جھیلا ہو گا۔اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہوا تو کوئی بھی اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ تینوں اقانیم ( باپ، بیٹا اور روح القدس) ایک دوسرے سے مختلف و ممیز الگ الگ شخصیتوں کے ہی مالک نہ تھے بلکہ دل و دماغ سے تعلق رکھنے والے ان کے جذبات و خیالات اور ان کی استعدادیں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہو نگی اور ایک دوسرے کے مابین انفعال کی کیفیت بھی موجو د ہو گی۔تثلیث کے عقیدہ کو سمجھنے کی کوشش میں ہمیں اس منظر کو ذہن میں لانا ہو گا کہ تین علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ایک دوسرے میں اس طرح گتھی ہوئی اور مدغم ہیں کہ ازل سے وجود واحد کے طور پر موجود چلی آرہی ہیں۔ہم اپنے تخیل کو وسیع کرنے اور جلا دینے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں ہم یہ سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے کہ وہ تینوں شخصیتیں اپنے اپنے مختلف جذبات و احساسات کے ترقی پزیر عمل کے باوجود کس طرح باہم مدغم ہو سکتی تھیں اور ازلی طور پر وجود واحد کی حیثیت سے اپنی ہستی کو کس طرح بر قرار رکھ سکتی تھیں۔اندریں حالات ایک ہی امکانی صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ ہے جسمانی طور پر ایک دوسرے میں مدغم ہونے کی صورت۔اس امکانی صورت کو ذہن میں لانے سے قوی ہیکل بے شمار سروں والے اس عفریت نما اژدھے کی خیالی تصویر پر وہ ذہن پر ابھر نے لگتی ہے جس کا ذکر یونانی علم الاصنام کے دیو مالائی قصوں میں آتا ہے اور جس کے متعلق بیان یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا ایک کئی سر قلم کر دینے سے فورا ہی نئے سر نکل آتے تھے۔یہ بات یقینا اپنی جگہ صحیح ہے کہ انسان اس حقیقت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے کہ خدا کس طرح کا اور کس فطرت کا ہے اور یہ کہ اس کی صفات خود اس میں کس طرح بروئے کار آتی ہیں۔لیکن ایک ایسی واحد اور اکیلی ہستی پر جس کے ساتھ سر، دل، گردوں اور دیگر اعضا کی طرح کے علیحدہ علیحدہ جسمانی حصوں اور ان کی مخصوص کار کردگی کا کوئی تصور وابستہ نہ ہو ایمان لانا بہت سادہ اور آسان ہے۔اس