مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 20
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 20 اسی پر بس نہیں اگر تخیل کی کسی انتہائی نا معقول اور نا قابل قبول کھینچا تانی کے ذریعہ انسان اس امر کو ذہن میں لے ہی آئے کہ ایسا عجیب و غریب اور بے ڈھب واقعہ حقیقتاً رو نما ہوا تھا تو اسی انوکھی منطق کی رو سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سے الٹ اور یکسر متضاد واقعہ بھی رونما ہو سکتا ہے۔یعنی اگر گناہ اس قدر فوری اور دیر پا اثر دکھا کر ابد الآباد تک کی نسلوں کو گناہگار بنا سکتا ہے تو پھر اس کے بالمقابل نیکی کو ایسے انقلاب انگیز اثر سے عاری کیوں قرار دیا جائے۔اسی طرح یہ بھی تو تسلیم کرنا چاہیے کہ اگر ایک گناہ گار انسان تو بہ کر کے نیکی کے راستہ پر پوری استقامت کے ساتھ گامزن ہو جائے اور انجام کار صحیح معنوں میں پاک صاف اور مطہر ہو جائے تو اس کی یہ نیکی نظام توالد و تناسل میں یک دم ریکارڈ ہو کر نوع انسانی کے تمام سابقہ گناہوں کے اثرات کو ہمیشہ ہمیش کے لئے محو کر سکتی ہے۔اگرچہ سائنسی طور پر تو ایسا ہونا ممکن نہیں لیکن یہ خلاف حقیقت ہونے کے باوجود ایک نسبتاً متوازن تصور ہے اور زیادہ منطقی ہے بہ نسبت اس نظریہ کے کہ صرف گناہ کے میلان میں ہی یہ قوت اور تاثیر ہے کہ وہ نظام توالد و تناسل میں منتقل ہو کر اپنے اثر کو دوام بخش سکتا ہے جبکہ نیکی کا میلان قوت تاثیر سے عاری ہے۔دوسرے یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آدم اور اس کی ایک لغزش کا مسئلہ حل کرنے کی خاطر تجویز یہ کیا گیا کہ آدم کا گناہ سلسلہ توالد و تناسل کے ذریعہ آدم کی نسل میں منتقل ہو تا چلا گیا اور پھر خدا نے ہزاروں سال بعد اپنے بیٹے کی قربانی کے ذریعہ اس کا کفارہ ادا کر کے انصاف اور عدل کے تقاضا کو پورا کیا۔سزا دہی اور کفارہ کے اس سلسلہ دراز سے حاصل کیا ہوا؟ اس پر غور کیا جائے تو اس کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ اس سے گناہ اور کفارہ کی اصل بنیاد از خود منہدم ہو جاتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر خدا کامل عادل اور پورا پورا انصاف کرنے والا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آدم اور حوا نے جو عارضی اور وقتی نافرمانی کی اور پھر دونوں اس سے تائب بھی ہوئے اس کی پاداش کے طور پر ان کی بعد میں آنے والی تمام نسلوں کو مردُود بنا چھوڑا۔جو گناہ آدم اور حوا نے کیا تھا اس پر انہوں نے ندامت کا اظہار کر کے تو بہ بھی کر لی تھی اور پھر اپنے اس گناہ کی انہیں سزا بھی مل گئی تھی اور وہ سزا تھی بھی بہت سخت کیونکہ انہیں بڑی ذلت کے ساتھ جنت سے نکال دیا گیا تھا۔اب یہ کہاں کا اور کیسا انصاف ہے خدا کا کہ آدم اور حوا کے ذاتی گناہ کی انہیں سزا دینے کے باوجود اس کا انتقام کا جذبہ اس وقت تک ٹھنڈا نہیں پڑتا جب تک کہ پوری نسل انسانی کو کمال بے بسی سے دو چار کر کے انہیں اس قعر مذلت میں نہیں گرا دیتا کہ نظام توالد و تناسل کے تحت بلا استثنا سب کے