مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 19
19 گناہ اور کفارہ یہ یاد رہے کہ اس طریقہ واردات اور طرز عمل کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں اصلاً یہ صورت حال پھر بھی قائم رہتی ہے کہ انسان خواہ کسی درجہ کا گنہگار ہو وہ بہر حال سزا کا مستوجب ٹھہرے گا اور خدا اپنے عدل کے تقاضوں میں سر مو فرق لائے بغیر گناہ گار سے اس کے گناہ کا بدلہ لینے کا مجاز رہے گا۔پہلی صورت حال میں اور ڈرامائی تبدیلی لانے والی بعد کی صورت حال میں فرق صرف یہ ہے کہ سزا تو ملی مگر آدم کے بیٹوں اور بیٹیوں کو نہیں بلکہ ”خدا کے بیٹے " مسیح کو ملی اور یہ مسیح کی رضا کارانہ قربانی ہی ہے جو اولاد آدم کا کفارہ ادا کرنے میں آلہ کار ثابت ہوئی۔ورنہ نسل انسانی کے لئے خدائے منتقم کی مقرر کردہ سزا سے بچنے کا کوئی امکان نہ تھا۔یہ منطق کتنی ہی عجیب کیوں نہ نظر آئے عقیدہ اور اس کی تشریح کے مطابق واقعہ ہوا یہی کہ مسیح نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کر دیا جس کے نتیجہ میں نسل آدم تو سزا سے بچ گئی لیکن مسیح کو ان گناہوں کی سزا بھگتنا پڑی جن کا اس نے سرے سے ارتکاب ہی نہیں کیا تھا۔آدم اور حوا کا گناہ آئیے ہم اس عقیدہ کی روشنی میں آدم اور حوا کے قصہ پر دوبارہ نظر ڈال کر اس کا شروع سے ایک دفعہ پھر جائزہ لیں۔اس عقیدہ کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جسے انسانی ضمیر اور منطق قبول کر سکے۔سب سے اول تو نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ آدم اور حوا نے گناہ کیا اس لئے ان کی اولاد نسلاً بعد نسل ابد الآباد تک کے لیے گناہ گار قرار پاتی چلی گئی۔گویا آدم اور حوا کا گناہ حیاتیات کے قدرتی نظام کے تحت یکدم ہی اگلی نسلوں میں منتقل ہونا شروع ہو گیا اور نسلاً بعد نسل منتقل ہو تا چلا گیا۔ابتدائے آفرینش سے جاری سلسله توالد و تناسل (Genetics) کی سائنس کی رو سے فوری طور پر ایسا ہو نا ممکن نہیں ہے۔اس سائنس نے اس امر کا انکشاف کیا ہے کہ اگر ایک انسان زندگی بھر نیک یا بد خیالات و اعمال کا پوری طرح پابند رہے اور اس میں کوئی فرق نہ آنے دے تو بھی وہ خیالات و اعمال نسل انسانی کی افزائش کے تناسلی نظام میں من و عن منتقل ہو کر اس میں اپنا دائمی نقش قائم نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان کا اپنا انفرادی عرصۂ حیات اتنا مختصر ہوتا ہے کہ وہ توالد و تناسل کے قدرتی نظام میں یکدم گہری اور انمٹ تبدیلیاں نہیں لا سکتا۔انسانوں کے توارثی جرثومے یا عنصر Gene میں نئے خواص مرتسم ہونے اور پھر ان کے دائمی جڑ پکڑنے کے لئے لاکھوں سال در کار ہوتے ہیں۔