مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 126

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 126 کرے گا۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک روز جو ہا کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اکیلا بیٹھ کر بھنا ہوا گوشت کھائے اور کھائے بھی خوب جی بھر کے۔اشتہا اتنی تیز تھی وہ اسے دبانہ سکا۔وہ سیدھا بازار گیا اور وہاں سے بہترین قسم کا دو کلو گوشت خرید لایا۔گوشت کو اپنی بیوی کے حوالہ کرتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ وہ اس سے بھنے ہوئے گوشت کا بہترین اور لذیذ ترین کھانا تیار کرے۔کوئی اور اسے ہاتھ نہ لگائے اور پورے کا پورا اس کے لئے مخصوص رہے۔حتی کے اس نے بیوی کو بھی منع کر دیا کہ وہ خود اس میں سے ایک آدھ بوٹی چکھنے کی بھی جرات نہ کرے۔بد قسمتی یہ ہوئی کہ جو نہی اس کی بیوی گوشت بھوننے سے فارغ ہوئی اس کے چند بھائی اپنی بہن سے ملنے کے لئے آوارد ہوئے۔اس کے اپنے لئے تو اچانک بھائیوں کا آنا بہت خوش گوار حیرت اور پر مسرت اچنبہ کا موجب تھا لیکن جو ہا کے لیے ان کا یوں آدھمکنا بد قسمتی کے پیش خیمہ سے کسی طرح کم نہ تھا۔تازے بھنے ہوئے لذیذ گوشت کی خوشبو پر ان نو وار د مہمانوں کا دل ایسا للچایا کہ بے چین ہو ہو کر لگے ہونٹوں پر زبان پھیر نے۔پھر وہی کچھ ہوا جس کا ہونا منطقی نتیجہ کے طور پر ناگزیر تھا۔مزے لے لے کر گوشت چٹ کرنے اور اس کا اس طرح صفایا کرنے کے بعد اس کا کوئی بھورا اور ذرہ بھی باقی نہ رہا۔انہوں نے پریشان حال فکر مند بہن سے رخصت ہونے کی اجازت لی اور وہاں سے چلتے بنے۔جو ہا کے آنے سے پہلے پہلے اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ہوش بجا کر کے ایسا بہانہ تراشا کہ اس کے نزدیک جس کا کوئی توڑ ممکن نہ تھا۔مگر جو ہا بھی اپنی جگہ کچھ کم چالاک و ہو شیار اور عیار نہ تھا۔جب وہ گھر میں داخل ہوا تو ابھی بھنے ہوئے گوشت کی بچی کچھی اور فضا میں رچی بسی خوشبو باقی تھی۔اس نے بڑے اشتیاق سے مطالبہ کیا کہ اس کا بھنا ہوا دو کلو گوشت اس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وہ کھا کر مونچھوں پر تاؤ دے سکے۔بیوی نے اس کی لاڈلی بلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا اگر ہو سکے تو مطلوبہ گوشت اپنی اس پیاری اور لاڈلی بلی کے پیٹ میں سے نکال لو۔میں جب گھر کے دوسرے کام کاج میں مصروف تھی تو اس نے گوشت پر ایسا دھاوا بولا کہ صفایا کر ڈالا۔جو ہا کچھ نہ بولا۔خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور بلی کو ترازو میں رکھ کر لگا اس کو تولنے۔بلی کا وزن پورے دوسیر نکلا۔اس نے اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر بڑی نرمی سے جس میں در پردہ گرمی سموئی ہوئی تھی کہا میری پیاری بیوی مجھے تمہاری بات کا پورا یقین ہے لیکن اگر یہ دو کلو گوشت میرا ہے تو میری بلی کہاں گئی ؟ اور اگر یہ میری بلی ہے (اور واقعہ بھی یہی ہے کہ یہ ہے میری بلی) تو میر الا یا ہوا دو کلو گوشت کہاں گیا؟ یہ تو ہے ایک لطیفہ جس میں مسئلہ زیر غور کی سراسر غیر منطقی صورت حال کی طرف ایک لطیف