مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 125
125 تثلیث اور حیثیتوں کی عبادت کی جاتی ہے اور نہ وہ باشعور مختلف پہلو اور حیثیتیں خود اپنی مرکزی خودی کی آپ عبادت کرتے ہیں۔ان مختلف پہلوؤں اور حیثیتوں کو علیحدہ ہستیاں تصور کرنے کے لئے بہر حال ان کی اپنی علیحدہ خودی اور انا کی شکل میں ان کی اپنی آزاد انفرادی شناخت ہونی چاہیے۔یہ مخصوص انفرادیت ہی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی علیحدہ شخصیت کے شعور سے بہرہ ور کرتی ہے اور اس کی اپنی علیحدہ شخصیت کے شعور سے بہرہ ور کرتی ہے اور اس کی اپنی علیحدہ شخصیت کو دوسروں پر آشکار کرنے والے حوالہ کا کام دیتی ہے۔بصورت دیگر اپنے یا دوسروں کے ذکر کے لیے ” میں “ ” تم “ اور ”وہ“ وغیرہ کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔تثلیث کے لفظ کو ایک وجود کے لیے استعمال کرنا اس کی مختلف صفات کو ظاہر کرنے کے لیے ہی ہو سکتا ہے۔اس سے زیادہ اس کا اور کوئی مطلب ممکن نہیں۔اور جہاں تک صفات کا تعلق ہے وہ تین تک محدود نہیں۔خواہ ہمیں ان کا علم ہو یا نہ ہو خدا کی بے شمار صفات ہو سکتی ہیں اور فی الحقیقت اس کے بے شمار صفات ہیں۔خلاصہ اور اختصار کے طور پر اس بحث کو انجام تک پہنچانے کے لیے ہم دوبارہ اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ تثلیث کے مختلف اجزائے ترکیبی کے مابین ایک دوسرے کی عبادت کا سوال اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب وہ تینوں ہستیاں ایک دوسرے سے مختلف ہوں اور مرتبہ میں ایک دوسرے کی ہم پلہ نہ ہوں یعنی ان کے مرتبے اور ان کے خصائص ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔اس صورت یعنی تفاوت مراتب کی صورت میں تینوں میں سے صرف ایک ہی عبادت کے لائق ٹھہرے گا اور باقی دو درجہ میں کمتر ہونے کی وجہ سے اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ بھی اس کی عبادت کریں۔ہر چند کہ جواب دو اور دو چار کی طرح واضح ہے لیکن اس کو قبول اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ ” تثلیث “ میں وحدانیت کے تصور کو دل و دماغ سے محو کر دیا جائے۔اس کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ آپ بیک وقت ” ایک میں تین “ اور ”تین میں ایک “دونوں پر ایمان رکھتے ہوں۔اس صورت حال کے پیش نظر مجھے ایک مزاحیہ واقعہ یاد آگیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس سے لطف اندوز ہوں اس لیے اسے یہاں درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ بغداد میں جو ہا نامی ایک درباری مسخرا تھا جو اپنے فن میں بہت طاق اور شہرہ آفاق تھا۔جب تیمور لنگ نے بغداد پر حملہ کیا۔وہاں وہ اس کے مزاح اور پر لطف باتوں کے پیرایہ سے بہت خوش ہوا۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جو ہا کو بھی مال غنیمت کے طور پر اپنے ساتھ لے جائے گا اور اسے اپنے ہاں دربار کے مسخرہ اعلیٰ کے طور پر مقرر