مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 87
باب پنجم زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے عقیدہ سے جو منظر نامہ تشکیل پاتا یا جو صورت حال ابھرتی ہے وہ ایک نہیں بہت سے مسائل کو جنم دینے کا موجب بنتی ہے۔ہم ان مسائل میں سے بعض پر گزشتہ باب میں پہلے ہی روشنی ڈال چکے ہیں۔اب ہم اپنی توجہ بعض نئے امور اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی نئی پیچیدگیوں اور الجھنوں کی طرف پھیرتے ہیں۔فی الوقت ہمارے مد نظر جو امر ہے وہ یہ ہے کہ صلیب دیئے جانے سے قبل اور پھر مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد مسیح کے ذہن کی حالت یا کیفیت کیا تھی۔تین دن رات ذہن کے یکسر ماؤف و معطل رہنے یعنی اس پر مکمل مردنی چھا جانے کے بعد (کہا یہ جاتا ہے کہ ) ذہن کو دوبارہ زندگی سے ہمکنار کیا گیا اور اس نے یکدم از سر نو کام کرنا شروع کر دیا۔اس ضمن میں جس سوال کو اہمیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان پر موت وارد ہوتی ہے تو اس وقت مرنے والے کے دماغ پر کیا گزرتی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ کم از کم ایک امر یہ نکتہ (جو چاہیں اس کو نام دے لیں) ایسا ہے جس کے بارہ میں جملہ طبی ماہرین وہ مسیحی ہوں یا غیر مسیحی بلا استثناسب کے درمیان مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر چند منٹوں یا اس سے ذرا ہی کچھ زیادہ وقت دماغ پر مردنی چھائی رہے اور اس کا ردِ عمل ہونا موقوف ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے مردہ ہو کر بلحاظ کار کردگی معدوم ہو کر رہ جاتا ہے۔جو نہی خون کی بہم رسائی موقوف ہوتی ہے دماغ کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔دماغ باطنی طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اس کے اجزا اندر ہی اندر بکھر نے اور تتر بتر ہونے لگتے ہیں۔اگر مسیح واقعی صلیب پر مر گیا تھا تو اس کے مالہ وماعلیہ کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس کے دل نے کام کرنا بند کر دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں اس کے دماغ کو خون کی بہم رسانی کا سلسلہ یکسر منقطع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کے دماغ پر بھی مکمل مردنی چھا گئی تھی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ زندگی کو سہارا دینے والے پورے نظام نے جام ہو کر کام کرنا بند کر دیا تھا۔بصورت دیگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مر گیا تھا۔اس لحاظ سے ہم مسیح کی زندگی اور موت کی تفہیم