چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 86 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 86

باذان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کا حکم دیا تھا حضور علیہ اسلام پر یہ انکشاف ہوا کہ آخری زمانہ میں دین اسلام کو ثریا سے واپس لانے کا فرض منصبی اور کار نمایاں ابنائے فارس کے سپرد کیا جائے گا۔چنانچہ فرمایا :- وانَ الْإِيْمَانَ بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالُ مِنْ اهْلِ فَارِسَ دور منشور للسيولی جلد ۶ ص۲۲ تفسیر سورۃ جمعہ - دار المعرفه بیروت ۱۳۱۳ هـ ) لو كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الرَّيَّا لَذَهَبَ بِهِ رجل منْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَا وَلَهُ رَم عَن ابى هريرة “ اکنز العمال جلد ۱ ص ۲۶ مطبوعه حیدر آباد دکن ۱۳۱۳ هـ ) که ایمان خواه کسی وقت ثریا تک بھی پہنچ گیا اہل فارس میں سے بعض مرد کامل اس کو واپس لے آئیں گے۔اور غالباً یہی وہ خصوصیت تھی جس کی بناء پر حضور نے یہ ارشاد فرمایا :۔اعْظَمُ النَّاسِ نَصِيبًا فِي الْإِسْلَامِ أَهْلُ فَارِسَ أكثر العمال جلد و حش ۳۱ از حضرت شیخ علاؤ الدین علی المنتقی - متوفی ، ۹۵ هو)