چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 65 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 65

۶۵ شاہجہانی بھوپال سنہ تالیف ۱۲۹۱ هـ ) یعنی بعض روایتوں میں آیا ہے کہ اس کا ظہور دقبال سے سات سال پہلے ہو گا اور دقبال صدی کے سر پر خروج کرے گا اور مہدی دین کا مجدّد ہے۔اور یہ جو مجددوں کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے " اِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ عَلَى رَ أُسِ كُلِّ مِائَةٍ سَنَةٍ مَنْ يُحَدِّدُ لَهَا أَمْرَ دِينِهَا ، یعنی اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر کسی شخص کو کھڑا کرے گا جو اس صدی کے لئے دین کی تجدید کرے گا پس بعض عالموں نے کہا ہے کہ مجدد کے متعلق یہ شرط ہے کہ صدی کے ختم ہوتے پر وہ زندہ ہو پس اگر اس کا ظور دنبال سے سات سال پہلے فرض کریں اور اسکی موجودگی کو اس مین کے خروج اور قتل کے ساتھ ملائیں تو رائی ڈرو ایتوں میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔واللہ اعلم۔اور اس کی تائید دنیا میں چھوٹے فتنوں کے وجود سے ہوتی ہے اور نیز اندھیری راتوں میں ستاروں کی لڑیوں کے تسلسل کی طرح جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتی ہیں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور اس تیرھویں صدی میں فتنوں اور آفتوں کا کثرت سے اقع ہوتا ایسی چیز ہے کہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر شہرت رکھتی ہے۔