چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت

by Other Authors

Page 47 of 203

چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 47

۴۷ تھے اور وہ بادشاہ کی زیادہ پروانہ کرتے تھے چنانچہ اُن کی خود داری کی وجہ سے بادشاہ اُن سے نفرت کرتا تھا۔غرض بادشاہ نے اپنے وقت کے اولیاء و فقراء سے کہا کہ مرہٹوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہمیں فتح نصیب کرے۔ایک نے دعا کی اور بادشاہ سے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ فتح ہمارے لئے مقدر نہیں ہے۔دوسرے نے دُعا کی اور بتایا کہ فتح ہمارے لئے مقدر نہیں ہے۔اسی طرح تیسرے چوتھے اور پانچویں نے بھی یہی کہا جب آٹھ دس اولیا و فقراء نے بھی کہ بھیجا کہ ہماری تم نہیں ہوگی تو بادشاہ کوسخت فکر ہوا۔آخر اُس کے وزیر نے اُسے کہا بادشاہ سلامت باشاہ ولی اللہ صاحب سے بھی دعا کروا کر دیکھیں۔بادشاہ نے کہا ئیں اُس سے کبھی دعا نہیں کراؤں گا کیونکہ میں اُسے باخدا نہیں سمجھتا دیگر جب وزیر نے اصرار کیا تو بادشاہ مان گیا اور اپنا ایک درباری شاہ ولی اللہ صاحب کی طرف بھیجا کہ ہماری فتح کے لئے دُعا کی جائے۔انہوں نے دعا کی اور بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کو مبارک ہو فتح آپ کی ہی ہوگی یجب یہ پیغام بادشاہ کے پاس پہنچا تو اس کو وسوسہ ہوا کہ شاید یہ بات میرا دل خوش کرنے کے لیے کھی گئی