چودھویں صدی کی غیر معمولی اہمیت — Page 35
۳۵ W ایسا زور ہے کہ فی الحقیقت اگر اس چراغ ہدایت کوشند باد دہریت اور گھر سے نہ بچایا جا و سے تو کوئی عرصہ میں قیامت نمود ہوگی یا دانشور عمدی بنگلور ها کالم ابابت د هر رجب ۵۱۳۰۰) فرقہ اہلحدیث کے ممتاز بزرگ نواب صدیق حسن خان صاحب قنوجی نے تیرھویں صدی کے اختتام اور چودھویں صدی کے آغاز میں جو تصانیف کیں اُن میں واضح لفظوں میں اقرار کیا کہ آنحضرت صلی الہ علیہ آلہ سلم کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں کا زوال اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور مہدی موعود کے بغیر اس کی اصلاح قطعی طور پر نا ممکن ہے چنانچہ انہوں نے فرمایا۔" حضرت کو پورے تیرہ سو برس کچھ اوپر گزر گئے اور اب قیامت سر پر آ گئی ہے، اسلام کی غربت غایت درجے کو پہنچ گئی ، اسباب ضلالت کے ہر طرف سے مہیا ہیں اور سلمانی فقط کتاب میں رہ گئی ہے ؟ ( ترجمان القرآن جلد ۳ ماه تالیف نواب صدیق حرفان صاحب رجب ۱۳۰۶ هو مطبوعہ مطبع صدیقی لاہور) اگر چه بحسب وعدہ نیوٹی ایک ایک گروہ اہل اسلام کا کسی نہ کسی قطر میں ہمیشہ غالب رہتا ہے۔مخالف اس کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے مگر یہ عموم بلوئی غربت اسلام کا بدون ظهور صدی مونو د فاطمی و نزول عیسی روح الله علیهما السلام دُور ہوتا نظر