حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 42 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 42

42 شخص اس سے انکار کرے تو اسپر واجب ہے کہ ہمیں حدیث یا قرآن یافن ادب کی کسی کتاب سے یہ دکھلا دے کہ ایسی صورت میں کوئی اور معنے بھی توٹی کے آجاتے ہیں۔اگر کوئی ایسا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ قدسیہ سے پیش کر سکے۔تو ہم بلا توقف اُسکو پانسو روپے انعام دینے کو طیار ہیں۔دیکھو حق کے اظہار کے لئے ہم کس قدر مال خرچ کرنا چاہتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتا؟ اگر سچائی پر ہوتے تو اس سوال کا ضرور جواب دیتے اور نقد روپیہ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۵۸) پاتے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرمایا۔اور پھر ہم پہلے کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جس جگہ کسی کلام میں تو فی کے لفظ میں خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی شخص نام لے کر اس فاعل کا مفعول بهہ قرار دیا جائے ایسے فقرہ کے ہمیشہ یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالی نے اس شخص کو مار دیا ہے یا مارے گا۔کوئی اور معنے ہرگز نہیں ہوتے۔اور میں نے مدت ہوئی اسی ثابت شدہ امر پر ایک اشتہار دیا تھا کہ جو شخص اس کے برخلاف کسی حدیث یا دیوان مستند عرب سے کوئی فقرہ پیش کرے گا جس میں باوجود اس کے کہ توفی کا لفظ خدا فاعل ہو اور کوئی حکم مفعول بہ ہو یعنی کوئی ایسا شخص مفعول بہ ہو جس کا نام لیا گیا ہو۔مگر وہ باوجود اس امر کے اس جگہ وفات دینے کے معنے نہ ہوں تو اس قدر اس کو انعام دوں گا۔اس اشتہار کا آج تک کسی نے جواب نہیں دیا۔اب پھر اتمام حجت کیلئے دوسو روپیہ نقد کا اشتہار دیتا ہوں کہ اگر کوئی ہمارا مخالف ہمارے اس بیان کو یقینی اور قعطی نہیں سمجھتا ہو تو احادیث صحیحہ نبویہ یا قدیم شاعروں کے اقوال میں سے جومستند ہوں اور جو عرب کے اہل زبان اور اپنے فن میں مسلم ہوں کوئی ایک ایسا فقرہ پیش کرے