حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 38
38۔ضرور قبول ہوتی ہے۔پس اگر وہ بچے ہیں تو ضرور صحیح اتر آئے گا۔چنانچہ اس سلسلہ اقدس نے حیات مسیح کے قائلین کو دعا کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔”اگر ہمارے مخالف اپنے تئیں سچ پر سمجھتے ہیں اور اس بات پر سچ مچ یقینی طور پر ایمان رکھتے ہیں کہ در حقیقت وہی مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی تو اس فیصلہ کے لئے ایک یہ بھی عمدہ طریق ہے کہ وہ ایک جماعت کثیر جمع ہو کر خوب تضرع اور عاجزی سے اپنے مسیح موہوم کے اترنے کے لئے دعا کریں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت صادقین کی دعا قبول ہو جاتی ہے بالخصوص ایسے صادق کہ جن میں ملہم بھی ہوں۔پس اگر وہ بچے ہیں تو ضرور مسیح اُتر آئے گا اور وہ دعا بھی ضرور کریں گے اور اگر وہ حق پر نہیں اور یادر ہے کہ وہ ہر گز حق پر نہیں تو دعا بھی ہر گز نہیں کرینگے کیونکہ وہ دلوں میں یقین رکھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ہاں ہماری اس درخواست کو کچے بہانوں سے ٹال دیں گے تا ایسا نہ ہو کہ رُسوائی اُٹھانی (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۷) پڑے۔" لفظ توفی سے متعلق ہزار روپیہ کا چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن آیات قرآنیہ سے وفات مسیح ثابت کی ہے ان میں سے دو آیات درج ذیل ہیں۔ا - يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى۔۔۔۔( آل عمران : ۶۵) ٢ - فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ۔(مائده: ۱۱۸) مندرجہ بالا ہر دو آیات میں مُتَوَفِّیک اور تَوَفَّيْتَنِی دونوں صیغے مصدر توفی سے مشتق ہیں جو محار وہ عرب اور سیاق کلام کے اعتبار سے اپنے اندر وفات کا مفہوم رکھتے ہیں۔اسی مفہوم کے پیش نظر ہی اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا دونوں آیات میں سے کسی اور لفظ کی بجائے توفی کے