حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page v of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page v

ع جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے مگر کسی کو بھی آپ کے مقابل پر آنے کی جرات نہ ہوسکی۔یہ چیلنجز اس زمانہ کے تمام معروف مسلمان علماء، عیسائی پادریوں، ہندو پنڈتوں ، آریہ سماجی لیڈروں اور مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے ان تمام سر برآوردہ رہنماؤں کے نام ہیں جنہوں نے قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس اور پاکیزگی پر حملہ کیا، قرآنی صداقتوں کو جھٹلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے زور آور نشانات کا انکار کیا۔اس پہلو سے ان چیلنجز کا مطالعہ احمدیت کی تاریخ کے ایک بہت اہم باب سے آگاہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس طرح دشمنیوں اور مخالفتوں میں اسلام کا پرچم سر بلند رکھا اور تیز ہواؤں کے بالمقابل علم و حکمت کے بلند مینار تعمیر کئے اور ہر مینار کے اوپر انعام کا چراغ جلا کر رکھ دیا مگر کوئی اس مینار پر چڑھنے اور چراغ بجھانے کی جرات نہ کر سکا۔آپ کی بے پناہ مصروفیات میں سلسلہ تصنیف و تالیف، اشتہارات، خطوط، زبانی گفتگو، مناظرے، مباحثے ، سفر، مقدمات میں پیشی اور جماعت کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ سلسلہ انعامات کے لئے وسیع تحقیق و تدقیق بھی شامل تھی اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا ایک الگ دلکش باب ہے۔اس مقالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام انعامی چیلنج یکجا کر دیئے