حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 23
23 نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح ابن مریم جس کو انجیل ملی تھی اب تک آسمان پر زندہ ہے اور آخری زمانہ میں آئے گا۔یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو چکا ہے اور اس کے نام پر کوئی دوسرا اسی امت میں سے آئے گا۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہی مسیح ابن مریم بجسده العنصری آسمان پر موجود ہے تو یہ عاجز دوسرے دعوے سے خود دست بردار ہو جائے گا ورنہ بحالت ثانی بعد اس اقرار کےلکھانے کے درحقیقت اسی امت میں سے مسیح ابن مریم کے نام پر کوئی اور آنے والا ہے۔یہ عاجز اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دے گا۔اور اگر اشتہار کا جواب ایک ہفتہ تک مولوی صاحب کی طرف سے شائع نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے گریز کی۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۳۹،۲۳۸) ۶ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مولوی سید نذیرحسین صاحب کے شاگردوں نے خود ہی ایک تاریخ معین کر کے ایک اشتہار شائع کر دیا کہ فلاں تاریخ کو بحث ہوگی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی اطلاع ہی نہ دی۔اور بحث کے روز مقررہ وقت پر حضرت اقدس کے پاس آدمی بھیج دیا کہ بحث کیلئے چلئے۔مولوی نذیر حسین صاحب مباحثہ کیلئے آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور دوسری طرف حضور کے خلاف لوگوں کو سخت بھڑ کا یا گیا تھا اور جلسہ کی غرض بھی بلوہ کر کے حضور علیہ السلام کو ایذاء پہنچا نا تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے حالات میں بغیر شرائط طے کئے جلسہ میں شامل نہ ہو سکتے تھے اور نہ ہوئے اور لوگوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ مرزا صاحب بحث میں حاضر نہیں ہوئے اور گریز کر گئے ہیں اور شیخ الکل صاحب سے ڈر گئے ہیں۔تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار بدیں عنوان شائع کیا۔