حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 22 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 22

22 مولوی عبدالحق کی مناظرہ سے معذرت اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مولوی عبدالحق صاحب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کر کے معذرت کر گئے کہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق و شقاق کا اندیشہ ہو طبعا کارہ ہوں۔چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی دہلی پہنچ کر فخریہ انداز میں اپنی علمیت اور فضیلت کا اعلان کر رہا تھا اور ایک اشتہار میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا کہ :۔”یہ میرا شکار ہے کہ بدقسمتی سے پھر دہلی میں میرے قبضہ میں آ گیا ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔“ اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑ کا تارہا۔اس پر حضرت اقدس نے ۴ را کتوبر۱۸۹ء کو ایک اشتہار بمقابل مولوی نذیرحسین صاحب سرگروہ اہلحدیث“ شائع کیا۔اس میں آپ نے مولوی عبدالحق صاحب کو چھوڑتے ہوئے مولوی سید نذیرحسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب جواب دہلی میں موجود ہیں ان کاموں میں اول درجہ کا شوق رکھتے ہیں۔لہذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بپابندی کے ساتھ شرائط مندرجہ اشتہار ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ ء بالاتفاق بحث کر لیں۔اور اگر انہوں نے بقبول شرائط مندرجہ اشتہار ۲ را کتوبر ۱۸۹۱ء بحث کیلئے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا ہے۔بحث میں امر تنقیح طلب یہ ہوگا کہ آیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ